لیبی نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ الصدیق عبدالکریم پر پارلیمان کی جانب جاتے ہوئے قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے
لیبیا: وزیر داخلہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے
نامعلوم مسلح افراد کی طرابلس میں صدیق عبدالکریم کی کار پر فائرنگ
لیبیا کے وزیر داخلہ الصدیق عبدالکریم دارالحکومت طرابلس میں قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔
لیبی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق الصدیق عبدالکریم بدھ کو طرابلس میں اپنی کار پر پارلیمان کی جانب جارہے تھے کہ اس دوران نامعلوم مسلح افراد نے ان کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ حملے میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔
وزیر داخلہ کے دفتر کے سربراہ البہلول السید نے حملے کی تصدیق کی ہے مگر واقعے کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔ صدیق عبدالکریم لیبیا کے نائب وزیراعظم بھی ہیں۔ ان پر قاتلانہ حملے سے تین ہفتے قبل 12 جنوری کو نائب وزیر صنعت حسن الدروئی کو نامعلوم مسلح افراد نے ان کے آبائی شہر سرت میں فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔
واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں سابق صدر معمرقذافی کی حکومت کے مسلح عوامی بغاوت کے نتیجے میں خاتمے کے بعد سے بدامنی اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔طرابلس اور دوسرے شہروں میں مسلح جنگجو دندناتے پھررہے ہیں۔وہ کسی حکومتی ادارے کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وہ از خود ہی کارروائیاں کرتے ہیں اور حکومت کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔
طرابلس سمیت لیبیا کا تمام چھوٹے بڑے مشرقی شہر قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لاقانونیت کا شکار ہیں۔مسلح جنگجو لیبیا کی سکیورٹی فورسز ،غیرملکیوں ،ججوں ،سیاسی کارکنان اور میڈیا کے نمائندوں کو آئے دن اپنے حملوں میں نشانہ بنارہے ہیں۔اب تک ان کے حملوں میں تین سو سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔
اسی بارے میں
-
لیبیا: پانچ سفاتکار رہا، مصر ابو عبیدہ کو رہا کرے گا -
لیبیا اور تیونس میں سرگرم "انصار الشریعہ" عالمی دہشت گرد تنظیم قرار -
کمانڈر ابوعیاض کو امریکی فورسز نے گرفتار نہیں کیا: امریکی ترجمان -
لیبیا: مظاہرین نے مرکزی بنک کا داخلی راستہ اور بندرگاہ بند کر دی -
لیبیا: بن غازی میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کا قتل -
لیبیا میں افراتفری کے لئے مصری میڈیا کے استعمال کا الزام