کمانڈر ابوعیاض کو امریکی فورسز نے گرفتار نہیں کیا: امریکی ترجمان
لیبیا کی حکومت خاموش، مسراتا حکام نے بھی گرفتاری کی تردید کر دی
امریکا نے خود کو تیونس کے القاعدہ گروپ انصار الشرعیہ کے رہنما ابو عیاض سیف اللہ بن حسین کی گرفتاری سے لاتعلق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فورسز نے ابو عیاض کو لیبیا سے گرفتار کرنے کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا ہے۔ امریکی فوجی ترجمان نے اس امر کی تردید تیونسی میڈیا میں ابو عیاض کی گرفتاری میں امریکی کردار ہونے سے متعلق خبروں کے سامنے آنے کے بعد کی ہے۔
ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افریقہ کیلیے امریکی کمانڈ کے ترجمان نے دو ٹوک انداز میں کہا '' امریکی افواج ابو عیاض کی گرفتاری کے آپریشن میں کسی بھی سطح پر شریک نہیں تھیں۔''
امریکی فورسز کی جانب سے لیبیا کی سرزمین پر کسی بھی ایسے آپریشن میں شمولیت غیر معمولی طور پر حساس معاملہ ہوتی کیونکہ لیبیا کے اسلام پسند پہلے ہی ماہ اکتوبر میں اٹھائے جانے والے ایک القاعدہ رہنما کے حوالے سے بھرے پڑے ہیں۔
لیبیا میں دو سال قبل کرنل قذافی کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد اسلام پسند کافی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ مغربی ممالک نے سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے لیبیائی فورسز کو تربیت دینے کا وعدہ کیا ہے۔
لیبیا کے ایک خبر رساں ادارے نے سکیورٹی فورسز کے حوالے سے خبر دی ہے کہ القاعدہ کمانڈر ابو عیاض کو ایک ساحلی شہر مسراتا سے پیر کی صبح گرفتار کیا گیا۔
اس آپریشن سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے لیبیا کے سکیورٹی اداروں کی مدد سے ابو عیاض کو اس کے دیگر کئی ساتھیوں سمیت گرفتار کیا ہے۔ بعض امریکی حکام بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ابو عیاض ضرور گرفتار ہو چکا ہے۔
واضح رہے ماہ اکتوبر میں طرابلس سے جب القاعدہ کمانڈر ابو انس اللیبی کو گرفتار کیا گیا تھا تو شروع میں اور دعوے کیے گئے تھے اور بعد ازاں کچھ اور حقائق سامنے آئے تھے۔ غالبا اسی وجہ سے لیبیا کی حکومت بھی محتاط ہے اور اس نے اس اہم گرفتاری کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ حتی کہ مسراتا کے حکام نے بھی ابو عیاض کی گرفتاری کی تردید کی ہے۔
تیونس سے تعلق رکھنے والا انصار الشرعیہ گروپ تین سال قبل زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آیا تھا ، زین العابدین بن علی آج کل جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔
-
انصارالشریعہ تیونس کے لیڈر کی لیبیا میں گرفتاری
امریکی میرینز اور لیبی سکیورٹی فورسز کی مصراتہ میں مشترکہ کارروائی
بين الاقوامى -
لیبیا میں روکے چار امریکی فوجی رہا کر دیئے گئے
قذافی حکومت کے خاتمے سے ملک طوائف الملوکی کا شکار ہے
بين الاقوامى -
لیبیا: بن غازی میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کا قتل
خاندان میں شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ
مشرق وسطی