لیبیا: پانچ سفاتکار رہا، مصر ابو عبیدہ کو رہا کرے گا

اپنی غلطی تسلیم ہے، ایک اغوا کار کی'' العربیہ'' سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لیبیا کے سابق باغیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے پانچ مصری سفارت کاروں کو اتوار کی رات تاخیر سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ بات اغوا کاروں میں سے ایک نے '' العربیہ '' کو بتائی، تاہم بعد ازاں لیبیا کی وزارت خارجہ نے بھی اس رہائی کی تصدیق کر دی ہے۔

یہ رہائی لیبیا اور مصر کے درمیان سفارتکاروں کے اغوا کا مسئلہ طے کرنے کیلیے بات چیت کے بعد عمل میں آئی ہے۔ مصری سفارت کاروں کا یہ اغوا مصر میں لیبیا کے اہم کمانڈر شعبان ہدایہ کی گرفتاری کے بعد کیا گیا تھا تاکہ مبینہ طور پر سفارتکاروں کے بدلے میں کمانڈر کی رہائی کرا لی جائے۔

اغواکاروں میں سے ایک کا کہنا ہے ان کی طرف سے سفارت کاروں کی رہائی کا فیصلہ اچھی نیت پر مبنی ہے، اس اغوا کار نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ ان کی غلطی تھی۔ اس بارے میں اغوا کار کا کہنا تھا '' مصر اس سلسلے میں لیبیا کی وزارت داخلہ سے رابطہ کر کے تسلی کر سکتا ہے۔''

اغواکار نے '' العربیہ '' کو بتایا کی مصر نے ''ہمارے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ اس کے سفارتکاروں کی رہائی کے بعد شعبان ہدایہ کو رہا کر دیا جائے گا۔'' واضح رہے شعبان ہدایہ ابو عبیدہ کے نام سے معروف ہے۔ اغوا کاروں کا کہنا ہے ابوعبیدہ سلفی ہے اس کا القاعدہ سے تعلق نہیں ہے۔

اغوا کار نے اس امر کی تردید کہ ان کا گروپ لیبیا کے وزیر اعظم کے اغواء میں بھی ملوث رہا ہے۔ لیبیا کے وزیر اعظم علی زیدان کو ماہ اکتوبر میں ایک ہوٹل سے چند گھنٹوں کیلیے اغوا کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں