لیبیا: پانچ سفاتکار رہا، مصر ابو عبیدہ کو رہا کرے گا
اپنی غلطی تسلیم ہے، ایک اغوا کار کی'' العربیہ'' سے گفتگو
لیبیا کے سابق باغیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے پانچ مصری سفارت کاروں کو اتوار کی رات تاخیر سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ بات اغوا کاروں میں سے ایک نے '' العربیہ '' کو بتائی، تاہم بعد ازاں لیبیا کی وزارت خارجہ نے بھی اس رہائی کی تصدیق کر دی ہے۔
یہ رہائی لیبیا اور مصر کے درمیان سفارتکاروں کے اغوا کا مسئلہ طے کرنے کیلیے بات چیت کے بعد عمل میں آئی ہے۔ مصری سفارت کاروں کا یہ اغوا مصر میں لیبیا کے اہم کمانڈر شعبان ہدایہ کی گرفتاری کے بعد کیا گیا تھا تاکہ مبینہ طور پر سفارتکاروں کے بدلے میں کمانڈر کی رہائی کرا لی جائے۔
اغواکاروں میں سے ایک کا کہنا ہے ان کی طرف سے سفارت کاروں کی رہائی کا فیصلہ اچھی نیت پر مبنی ہے، اس اغوا کار نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ ان کی غلطی تھی۔ اس بارے میں اغوا کار کا کہنا تھا '' مصر اس سلسلے میں لیبیا کی وزارت داخلہ سے رابطہ کر کے تسلی کر سکتا ہے۔''
اغواکار نے '' العربیہ '' کو بتایا کی مصر نے ''ہمارے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ اس کے سفارتکاروں کی رہائی کے بعد شعبان ہدایہ کو رہا کر دیا جائے گا۔'' واضح رہے شعبان ہدایہ ابو عبیدہ کے نام سے معروف ہے۔ اغوا کاروں کا کہنا ہے ابوعبیدہ سلفی ہے اس کا القاعدہ سے تعلق نہیں ہے۔
اغوا کار نے اس امر کی تردید کہ ان کا گروپ لیبیا کے وزیر اعظم کے اغواء میں بھی ملوث رہا ہے۔ لیبیا کے وزیر اعظم علی زیدان کو ماہ اکتوبر میں ایک ہوٹل سے چند گھنٹوں کیلیے اغوا کیا گیا تھا۔
-
لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان مستعفی ہونے کو تیار
اسی یا آیندہ ہفتے ٹیکنوکریٹس اور آزاد ماہرین پر مشتمل کابینہ تشکیل دینے کا اعلان
بين الاقوامى -
کمانڈر ابوعیاض کو امریکی فورسز نے گرفتار نہیں کیا: امریکی ترجمان
لیبیا کی حکومت خاموش، مسراتا حکام نے بھی گرفتاری کی تردید کر دی
مشرق وسطی -
انصارالشریعہ تیونس کے لیڈر کی لیبیا میں گرفتاری
امریکی میرینز اور لیبی سکیورٹی فورسز کی مصراتہ میں مشترکہ کارروائی
بين الاقوامى