شامی باغی شمال مغربی صوبہ ادلب میں ایک تربیتی مشق میں حصہ لے رہے ہیں۔
ترکی : شامی باغیوں کی عسکری تربیت کے آغاز میں تاخیر
ترک وزیر خارجہ مولود کاوس اوغلو نے اطلاع دی ہے کہ ترکی اور امریکا کے شامی باغیوں کو عسکری تربیت دینے اور مسلح کرنے کے مشترکہ پروگرام کے آغاز میں بوجوہ تاخیر ہوگئی ہے۔
مولود کاوس اوغلو نے ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ فنی وجوہ کی بنا پر شامی باغیوں کے اس تربیتی پروگرام میں تاخیر ہوئی ہے۔اس کا ترکی کے امریکا کے ساتھ کسی قسم کے عدم اتفاق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔البتہ انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اس تربیتی پروگرام پر کب سے عمل درآ؛مد کا آغاز ہوگا۔
ترکی اور امریکا کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد فروری میں شامی باغیوں کو فوجی تربیت دینے اور انھیں مسلح کرنے سے متعلق پروگرام پر سمجھوتا طے پایا تھا۔ترک حکام نے قبل ازیں کہا تھا کہ مارچ میں تربیتی عمل شروع ہو جائے گا لیکن بعد میں اس میں مئی تک تاخیر کردی گئی تھی۔
امریکی وزیرخارجہ ایش کارٹر نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) سے لڑنے کے لیے شام کے باغی جنگجوؤں کی تربیت کے پروگرام پر عمل درآمد کا آغاز کردیا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں ان کے فوجی نوّے شامیوں پر مشتمل ایک گروپ کو تربیت دے رہے ہیں۔
اردن کی حکومت کے ایک ترجمان نے بھی اس کی تصدیق کی تھی کہ ان شامی باغیوں کی کئی روز قبل تربیت شروع ہوئی تھی۔پینٹاگان کے اس مجوزہ پروگرام کے تحت پندرہ ہزار سے زیادہ شامی باغیوں کو فوجی تربیت دینے اور مسلح کرنے میں تین سال کا عرصہ لگے گا۔
امریکا نے چند ہفتے قبل ہی شامی حزب اختلاف کے قریباً بارہ سو جنگجوؤں کو فوجی تربیت کے لیے مکمل چھان بین کے بعد نامزد کیا تھا۔ انھیں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے پینٹاگان کے وضع کردہ پروگرام کے تحت جدید اسلحہ چلانے کے علاوہ جنگی حربوں کی تربیت دی جائے گی۔اس پروگرام کے تحت ایک سال میں پانچ ہزار سے زیادہ شامی جنگجوؤں کو تربیت دی جائے گی۔ان میں سے قریباً تین ہزار کو 2015ء کے اختتام تک تربیت یافتہ بنایا جاسکتا ہے۔