شام،فرانس

فرانس کی شامی اپوزیشن کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق

خلاف ورزی پر غور کے لیے ٹاسک فورس کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے وزیر خارجہ جین مارک ایرو کا کہنا ہے کہ ان کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق جنگ بندی کے بعد شام میں اعتدال پسند اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس اعلان کے بعد فرانس نے شام میں جنگ بندی سے متعلق خصوصی ٹاسک فورس کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فائربندی کی خلاف ورزیوں کو زیر بحث لایا جاسکے۔

دوسری جانب جنیوا میں شامی مذاکراتی وفد کے سربراہ اسعد الزعبی نے باور کرایا ہے کہ شام میں جنگ بندی اپنے آغاز سے قبل ہی ختم ہوگئی اور اس دوران اعتدال پسند اپوزیشن کے بہت سے علاقوں کو گیس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بشار الاسد کی حکومت پھر سے کلورین گیس کا استعمال کررہی ہے۔

الزعبی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بشار کے بعد شامی اپوزیشن کا سب سے بڑا مخاصم روس ہے اور اس پر اعتماد کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ روسی "دہشت گرد" ہیں اس لیے وہ منصف کا کردار نہیں ادا کرسکتے۔ الزعبی کے مطابق شامی حکومت، ایران اور روس جنگ بندی نہیں چاہتے اور نہ ہی اس کی پاسداری کرتے ہیں۔

الزعبی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بشار الاسد کی حکومت کے پاس تقریبا 600 ٹن زہریلی گیس کا ذخیرہ ہے اور عالمی برادری اس کو برآمد کرنے کی قدرت نہیں رکھتی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کے پاس شامی عوام کے تحفظ کے لیے آلات ہیں جب کہ عالمی برادری اپنے اس کردار کو ادا کرنے سے قاصر رہی ہے جس کی وہ شامی عوام کے خلاف وسیع پیمانے پر جرائم کے بعد پابند تھی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں