Your browser doesn’t support HTML5 video

الحشد الشعبی کے جنگجو ایران کی مدد سے شام میں داخلے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سرکاری فوج کے ساتھ داعش کے خلاف لڑنے والی متنازع شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے جنگجو ایران کی مدد سے عراق سے اب شام میں داخل ہونے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کو اپنے ذریعے سے اطلاعات ملی ہیں کہ الحشد الشعبی ایرانی اخراجات پر اپنے جنگجوؤں کو عراق سے شامل میں داخل کرنے کے لیے تیار ہے۔

پاسداران انقلاب کے اہلکاروں اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ہزاروں جنگجوؤں کو شام میں داخل کرانے کے بعد تہران اب عراق کے شیعہ عسکریت پسندوں کو داعش کے خلاف جنگ کی آڑ میں شام میں داخل کرانے کی ذمہ داری اپنے سر لے رہا ہے۔

حال ہی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ موصل آپریشن مکمل ہونے کے بعد عراقی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی اپنے جنگجو شام بھیجے گی۔ ان کے اس بیان کے بعد الحشد الشعبی پر عراق کے عوامی حلقوں کی طرف سے تنقید کی گئی تھی اور اسے ایران کا ایک عسکری ونگ قرار دیا جا رہا ہے۔

الحشد الشعبی کی لیڈر شپ متعدد مواقع پر اپنے جنگجو شام بھجوانے کے کا اعلان کرچکی ہے۔ شدت پسند کمانڈروں کا کہنا ہے کہ وہ جنگجوؤں کو عراق کی سرحد کی اندر تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ انہیں شام میں داخل کریں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں