’حشد الشعبی‘ کی موجودگی میں عراق کو ہماری ضرورت نہیں:ایران

جوہری سمجھوتے پر پاسداران انقلاب سپریم لیڈر کے حکم کی پابند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شمالی عراق میں داعش کے جاری فوجی آپریشن میں شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کی شمولیت پر علمی برادری کی طرف سے شدید تنقید اور مخالفت کے باوجود ایران اس گروپ کی مسلسل حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ شمالی عراق میں داعش کے خلاف آپریشن کی آڑ میں الحشد الشعبی پر اہل سنت مسلک کے شہریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ دوسری جانب ایران نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ الحشد الشعبی ملیشیا کی موجودگی میں عراق کو ایرانی فوج کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں الحشد الشعبی ملیشیا عراق میں ایرانی فوج کے متبادل کے طور پر کام کررہی ہے۔

ایرانی فوج کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق میں کئی محاذوں پر الحشد الشعبی کے جنگجو لڑ رہے ہیں۔ تہران میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ عراقی جنگجوؤں اور الحشد الشعبی کے عسکری کارکنان کے پاس لڑائی کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ دونوں فورسز کو ایران کی بھرپور عسکری معاونت بھی حاصل ہے۔

جنرل جعفری کا کہنا تھا کہ عراق میں ایرانی فوج صرف مشاورت کے لیے تعینات کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ایران یہی دعویٰ شام کے بارے میں بھی کررہا ہے کہ شام میں اس کی فوج صرف بشارالاسد کی وفادار فوج کی رہ نمائی کررہی ہے جب کہ محاذ جنگ سے ملنے والی خبریں اس کےبرعکس ہیں۔ سیکڑوں ایرانی فوجی شام میں باغیوں کے ساتھ براہ راست لڑائی میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سول کے جواب میں جنرل محمد علی جعفری کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ جوہری سمجھوتے کے بارے میں پاسداران انقلاب وہی فیصلہ کرے گی جس کا حکم سپریم لیڈردیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جوہری معاہدے کے حوالے سے مرشد اعلیٰ کے حکم کے پابند ہیں۔

خیال رہے کہ بدھ کے روز ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نےامریکا کی طرف سے ایران پر مزید 10 سال تک پابندیوں میں توسیع کا بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر پابندیاں جوہری معاہدے کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور ایران ان پر خاموش نہیں رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں