داعش سب سے تباہ کن اور دولت مند دہشت گرد گروپ
عراق ،افغانستان ،نائیجیریا ،پاکستان اور شام دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے : گلوبل ٹیررازم انڈیکس
انسٹی ٹیوٹ برائے معاشیات اور امن نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر تنظیم دولت اسلامی (داعش) کو دنیا کا سب سے تباہ کن اور دولت مند دہشت گرد گروپ قرار دیا ہے۔
اس ادارے نے سال 2016ء کے لیے عالمی دہشت گردی اشاریہ ( گلوبل ٹیررازم انڈیکس جی ٹی آئی) جاری کیا ہے۔اس میں دنیا کے 163 ممالک میں دہشت گردی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ان ملکوں میں دنیا کی 99 فی صد آبادی ہے۔
دہشت گردی کے اس عالمی اشاریے کے مطابق داعش نے سال 2015ء میں آمدن کی شکل میں قریباً دو ارب ڈالرز جمع کیے تھے۔اس میں سے پچاس فی صد رقم تیل کی اسمگلنگ یا غیر قانونی فروخت ،تیس فی صد محاصل اور دس فی صد نوادرات کی غیر قانونی فروخت سے حاصل ہوئی تھی۔
دولت اسلامیہ اور اس سے وابستہ گروپ دنیا کے زیادہ ممالک میں فعال نظر آئے ہیں اور انھوں نے سنہ 2015ء میں دنیا کے اٹھائیس ممالک میں اپنے قدم جما لیے تھے جبکہ ایک سال پہلے 2014ء میں ان کے صرف تیرہ ممالک میں جنگجو موجود تھے۔داعش کے تعلق سے کیے گئے دہشت گردی کے حملوں میں نصف ان لوگوں نے کیے تھے جن کے داعش کے ساتھ براہ راست کوئی روابط نہیں تھے۔
جنیوا مرکز برائے سکیورٹی پالیسی کی سینیر فیلو اور جی ٹی آئی کی ایک لکھاریہ ڈاکٹر کرسٹینا ،شوری لیانگ نے اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ ''2015ء کے اختتام پر داعش کا 60 سے 80 لاکھ لوگوں پر کنٹرول تھا اور ان کے زیر قبضہ علاقے کا حجم بیلجیئم کے رقبے کے برابر تھا۔ان کے جنگجوؤں کی تعداد تیس سے پچاس ہزار کے درمیان تھی جبکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں غیرملکی جنگجو داعش کی جانب راغب ہورہے تھے اور اس میں شمولیت اختیار کررہے تھے''۔
2016ء کے عالمی دہشت گردی اشاریے کے نتائج کے مطابق داعش کو دنیا کا سب سے زیادہ ہلاکت آفریں دہشت گرد گروپ خیال کیا جاتا ہے۔اس نے سنہ 2015ء میں 6141 افراد کو ہلاک کیا تھا۔اس کے بعد نائیجیریا کی بوکو حرام کا نمبر آتا ہے،اس نے 5478 افراد کو بم دھماکوں اور دہشت گردی کے دوسرے حملوں میں ہلاک کیا تھا۔
سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کی ہلاکت آفرینی کے ساتھ اس کے حملوں میں نشانہ بننے والے ممالک کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اس نے گذشتہ سال گیارہ ممالک میں دہشت گردی کے حملے کیے تھے۔اس سے پیوستہ سال اس کے حملوں کا نشانہ بننے والے ممالک کی تعداد چھے تھی۔داعش نے 2015ء میں مختلف شہروں میں 252 حملے کیے تھے۔ان میں سے زیادہ تر حملے عام شہریوں اور ان کی جائیدادوں پر کیے گئے تھے اور تمام ہلاکتوں میں ان کی شرح 43 فی صد رہی تھی۔
عراق ،افغانستان ،نائیجیریا ،پاکستان اور شام دنیا کے ایسے ممالک ہیں جہاں دہشت گردی کے سب سے زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سال 2015ء میں دنیا بھر میں دہشت گردی کے حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 72 فی صد صرف ان پانچ ممالک میں ہوئی تھیں۔
انسٹی ٹیوٹ برائے معاشیات اور امن کے مطابق 2015ء میں دہشت گردی کے مجموعی اثرات میں 6 فی صد اضافہ ہوا ہے کیونکہ بہت سے ممالک میں دہشت گردی کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دہشت گردی کا زیادہ تر مرکز ومحور مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا ( مینا)، جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقا کے خطے ہیں لیکن مغربی ممالک میں بھی دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
جی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق تنظیم برائے اقتصادی تعاون اور ترقی ( او ای سی ڈی) میں شامل ممالک میں گذشتہ سال دہشت گردی کے حملوں میں نمایاں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تنظیم کے 34 میں سے 21 ممالک کو دہشت گردی کی کسی نہ کسی شکل کا سامنا ہوا ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں میں 2014ء کے مقابلے میں ڈرامائی طور پر 650 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر تحقیق ڈینیل ہائسلوپ نے اٹلی کے دارالحکومت روم میں رپورٹ کے اجراء کے وقت کہا کہ ''دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا زیادہ محفوظ جگہ بن گئی تھی لیکن گذشتہ ایک عشرے کے دوران میں عالمی امن انحطاط کا شکار ہوا ہے اور اس رجحان میں دہشت گردی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے''۔
ان خوف ناک اعداد وشمار کے باوجود اب دہشت گردی کو بڑے پیمانے پر تباہی لانے والے حربے کے طور پر غیر موثر خیال کیا جاتا ہے کیونکہ دہشت گردی کے قریباً نصف حملوں میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔
تاہم اس کے باوجود دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔2015ء میں 71 ممالک میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔جن ممالک میں دہشت گردی کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں ،ان میں اومان ،پولینڈ ،ملاوی ،بینن ،رومانیہ ،کیوبا ،کوسٹاریکا اور سنگاپور شامل ہیں۔