پوپ فرانسس سات جون، 2024 کو ویٹیکن کے ویٹیکن گارڈنز میں شام کی دعائے امن کے بعد روانہ ہو گئے۔ پوپ فرانسس نے جمعے کے روز غزہ میں امن کی نئی اپیل کے ساتھ اسرائیلی اور فلسطینی سفراء کو ویٹیکن گارڈنز میں دعائے امن کرنے کے لیے مجتمع کیا جو اسی طرح کی ملاقات کی 10ویں سالگرہ کا دن ہے جب اسرائیل اور فلسطینی صدور نے دعا کی تھی۔ (رائٹرز)

پوپ فرانسس کی غزہ میں فوری انسانی امداد کی اپیل، جنگ بندی تجاویز کی حمایت

پوپ نے ویٹیکن میں ہی دس سال قبل اسرائیلی اور فلسطینی صدور کے ساتھ کی گئی دعائے امن کو یاد کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پوپ فرانسس نے اتوار کو غزہ میں فلسطینیوں تک فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی اور اسرائیل اور حماس سے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی تجاویز کو فوری طور پر قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپنی اتوار کی دوپہر کی دعا کے دوران فرانسس نے اردن کا بھی شکریہ ادا کیا جو اس ہفتے فلسطینیوں کے لیے ایک بین الاقوامی انسانی امداد کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

انہوں نے کہا، "میں عالمی برادری کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ جنگ سے تنگ غزہ کے لوگوں کی مدد کے لیے ہر طرح سے فوری طور پر کام کرے۔ انسانی امداد کو ضرورت مندوں تک پہنچنے کی اجازت ہونی چاہیے اور کوئی بھی اس میں رکاوٹ نہ ڈال سکے۔"

انہوں نے یاد کیا کہ ہفتے کا دن دعائے امن کے 10 سال مکمل ہونے کی یاد دلاتا ہے جس کی میزبانی انہوں نے ویٹیکن گارڈنز میں کی تھی اور اس وقت کے اسرائیلی صدر شمعون پیریز اور فلسطینی رہنما محمود عباس دعا میں شریک ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا، "اس ملاقات نے ظاہر کیا کہ مصافحہ ممکن ہے اور یہ کہ امن قائم کرنے کے لیے آپ کو ہمت کی ضرورت ہے - جنگ کرنے سے کہیں زیادہ ہمت۔"

پوپ فرانسس نے جنگ بندی تجاویز کی حمایت اور امید ظاہر کی کہ فریقین شرائط کو جلد قبول کر لیں گے حالانکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ مذاکرات "آسان نہیں ہیں۔"

انہوں نے کہا، "مجھے امید ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی خاطر تمام محاذوں پر امن کی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، انہیں فوری طور پر قبول کر لیا جائے گا۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں