انڈونیشیا: سونے کی کان منہدم ہونے سے 12 افراد جاں بحق اور 18 لاپتہ
سولاویسی جزیرے پر موسلادھار بارش، مکانات زمین بوس ہوگئے، پانچ افراد کو زندہ نکال لیا گیا
حکام نے پیر کو بتایا ہے کہ انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں ہفتے کے آخر میں شدید بارشوں کے باعث سونے کی ایک غیر قانونی کان میں مٹی کے تودے گرنے سے کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 18 دیگر لاپتہ ہو گئے۔ مقامی ریسکیو ایجنسی (باسار ناس) کے سربراہ نے بتایا کہ صوبہ گورونتالو کے سوواوا علاقے میں اتوار کی صبح ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ میں کان کن اور غیر قانونی کان کے قریب رہنے والے کچھ رہائشی افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ زندہ بچ جانے والے پانچ افراد کو نکال لیا گیا۔ ایک ریسکیو ٹیم پیر کو 18 لاپتہ افراد کی تلاش کر رہی تھی۔ انہوں نے بتایا ہم نے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے نیشنل ریسکیو ٹیم، پولیس اور فوج کے جوانوں پر مشتمل 164 اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔
امدادی کارکنوں کو لینڈ سلائیڈنگ کے مقام تک پہنچنے کے لیے 20 کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ سڑک پر بھاری کیچڑ اور علاقے میں مسلسل بارش کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔
ایجنسی کی طرف سے شائع کردہ متاثرہ گاؤں کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ سے کچھ مکانات بھی منہدم ہو گئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مٹیگیشن ایجنسی نے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ صوبہ گورنٹالو کے کچھ علاقوں میں پیر اور منگل کو بارش کا امکان ہے۔ لوگ چوکس رہیں اور کسی اور ممکنہ آفت سے بچنے کے لیے احتیاط برتیں۔
یاد رہے گزشتہ مئی میں انڈونیشیا کے مغربی سماٹرا صوبے میں شدید بارشوں کے باعث سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔