شدید گرمی کے باعث کوئٹہ میں روایتی ٹھنڈے مشروبات کی مقبولیت

گنے اور خوبانی کا روایتی جوس پینے والوں کی تعداد دوگنا ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

گرمیوں کا موسم آتے ہی حاجی باز خان کی مصروفیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ گرمی کو مات دینے اور اپنے خراب اور خشک گلے کو راحت پہنچانے کے شوقین سینکڑوں گاہک گنے کے جوس کا بڑا گلاس پینے کے لیے روزانہ ان کی دکان پر آتے ہیں۔ جوس نکالنے کے لیے گنا کچلنے والی مشین کی آواز کے ساتھ خان بار بار اپنی دکان پر ملازمین کو ہدایت کرتے ہیں کہ گاہکوں سے آرڈر لیں۔

پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں موسمِ گرما میں ایک مصروف مقام جناح روڈ پر واقع "کوئٹہ جوس" کی دکان کا یہ عام منظر ہوتا ہے۔ پاکستان مئی سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور ملک کے جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا ہے۔ کوئٹہ میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اکثر درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔

اور جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے تو کوئٹہ جوس پر اپنی پیاس بجھانے کے لیے آنے والے گاہکوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔

58 سالہ خان نے عرب نیوز کو بتایا، "بعض اوقات سخت گرمی کے دنوں میں گاہکوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے ہمارے پاس گلاسوں کی کمی ہو جاتی ہے کیونکہ لوگ گنے کے رس کو [شدید] گرمی کو مات دینے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔"

گنے کا رس پاکستان میں موسمِ گرما کا ایک مقبول مشروب ہے۔ گنے کے بانس کو مشین میں کچل کر موقع پر ہی رس نکال کر برف کے ٹکڑوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے وسیع اور دیرینہ معاشی بحران اور دس فیصد سے زیادہ مہنگائی نے کاروبار کرنا مشکل کر دیا ہے۔ 1985 سے گنے کے رس کی مشہور دکان چلانے والے خان نے کہا، انہیں 2500 روپے (9 ڈالر) میں 40 کلو گنے خریدنا پڑتا ہے۔ اور حکومت کی طرف سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی منظوری سے معاملات مزید خراب ہو گئے ہیں۔

خان نے کہا، "لیکن اس کے باوجود میرا کاروبار اچھا جا رہا ہے۔ ہم گنے کے رس کا ایک گلاس 90 روپے ($0.32) میں فروخت کر رہے ہیں۔ گرمیوں میں ہم روایتی مشروب کے لیے باقاعدگی سے 100 کلو گرام سے زیادہ گنے کا استعمال کرتے ہیں۔"

افتخار پرویز جو پاکستان کے مشرقی شہر فیصل آباد سے کوئٹہ میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئے تھے، قریبی بازار آنے کے بعد گنے کا رس پیے بغیر واپس نہ جا سکے۔

انہوں نے کہا، گرمی میں گلا خشک رہتا ہے اس لیے لوگ گنے کا رس پینا پسند کرتے ہیں۔

کوئٹہ آنے والے بلوچستان کے سبی شہر کے رہائشی 44 سالہ وکیل احمد نے بتایا کہ وہ گنے کا رس پینے کے لیے رکے تھے کیونکہ انہیں کم بلڈ شوگر کا مسئلہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس مشروب نے اس کے دماغ اور روح کو تازگی بخشی۔

احمد نے کہا، "طبی لحاظ سے گنے کا رس انسانی جسم کے لیے بہت صحت بخش ہے اور ڈاکٹر ہمیشہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کے لیے یہ تجویز کرتے ہیں۔"

'کشتہ'

جہاں دہی سے بنی لسی، لیموں سوڈا، دودھ کے شیک اور تازہ جوس گرمیوں میں مقبول ہوتے ہیں، وہیں ایک اور مشروب "کشتہ" بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں نہایت پسندیدہ مشروب ہے۔ یہ خشک خوبانی، نمک اور چینی کے آمیزے سے بنتا ہے۔

اکیس سالہ اکرام اللہ گذشتہ پانچ سالوں سے ہر موسمِ گرما میں یہ مشروب فروخت کرتے ہیں۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "مقامی لوگ خوبانی کا جوس پینا پسند کرتے ہیں جس سے مجھے ایک دن میں 3000 روپے (10.80) کی آمدنی ہوتی ہے۔

"جب شہر میں کوئی عوامی سرگرمی ہو تو میں خوبانی کے جوس کے 35 لیٹر والے دو جار فروخت کرتا ہوں۔ لیکن عام دنوں میں ایک فروخت ہوتا ہے۔"

شہر کے سریاب روڈ کے رہائشی تاج محمد نے بتایا کہ وہ بازار میں گھوم رہے تھے کہ انہیں کشتہ بیچنے والا ایک ڈھابہ نظر آیا۔ یہ ان کا جی للچانے کے لیے کافی تھا کہ وہ رک کر ایک گلاس تازہ خوبانی کا جوس پیئں۔

"کوئٹہ میں بڑے شہر کے وسط سے سریاب روڈ کے اختتام تک درجنوں ڈھابے ہیں جو یہ روایتی مشروب فروخت کر رہے ہیں کیونکہ گرمیوں کے موسم میں اس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں