انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران ہر سال چین کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ لوگوں کو پھانسی دیتا ہے۔ (رائٹرز)

ایران میں وکیل کو قتل کرنے کے جرم میں ایک شخص کو سرِعام پھانسی

سزا اسلامی شرعی قانون "قصاص" کے مطابق دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایران نے پیر کے روز دو سال قبل ایک وکیل کے قتل کے الزام میں ایک شخص کو سرِعام پھانسی دے دی۔

عدلیہ کی میزان آن لائن ویب سائٹ نے بتایا کہ "آج صبح شمالی صوبہ سمنان کے شہر شاہرود میں ایک وکیل کے قاتل کو عوام کے سامنے سزائے موت دی گئی۔"

سرکاری آئی آر این اے نیوز ایجنسی نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر بتایا کہ مذکورہ 20 سالہ شخص نے وکیل کو قتل کرنے کے لیے ایک گینگ کی خدمات حاصل کرنے کا اعتراف کیا۔

پیر کی پھانسی اسلامی شرعی قانون "قصاص" کے مطابق عمل میں لائی گئی۔

ایران میں سرِعام پھانسی نسبتاً کم دی جاتی ہے جہاں موت کی تقریباً تمام سزائیں جیلوں میں عام طور پر پھانسی کی صورت میں دی جاتی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران ہر سال چین کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ لوگوں کو پھانسی دیتا ہے۔

بدھ کے روز وسطی ایران میں حکام نے اپنی مؤکلین کے ساتھ عصمت دری اور جنسی زیادتی کرنے کے الزام میں ایک مرد نجومی کو پھانسی دے دی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں