سربیا کی وزارتِ داخلہ کی 22 ستمبر 2024 کو تقسیم کردہ یہ ہینڈ آؤٹ تصویر ایک خصوصی پولیس یونٹ کے افسر کی ہے جو بلغراد میں سربیا کی پارلیمنٹ کے قریب ایک تعمیراتی مقام پر جنگِ عظیم اوّل کے 300 کلو وزنی توپ خانے کے نہ پھٹ سکنے والے گولے کی پیمائش کر رہا ہے۔ (اے ایف پی)

بلغراد سے جنگِ عظیم اوّل کا ایک صدی پرانا 660 پاؤنڈ وزنی بم ہٹا دیا گیا

یہ جولائی 1914 میں جنگِ عظیم اوّل میں استعمال ہوا، ریگستانی علاقے میں لے جا کر تباہ کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پولیس نے بتایا کہ تقریباً 300 کلوگرام (660 پاؤنڈ) وزنی ایک صدی پرانا توپ خانے کا گولہ اتوار کے روز بلغراد میں سربیا کی پارلیمنٹ کے قریب ایک تعمیراتی مقام سے بحفاظت ہٹا دیا گیا۔

سربیا کے وزیرِ داخلہ ایویتسا داکیک نے گولے کو ہٹانے کی کارروائی سے پہلے بتایا کہ گذشتہ بدھ کو ملنے والا 305 ملی میٹر کا "مورسر ایم۔11" ہووٹزر گولہ آسٹرو ہنگیریئن فوج نے جولائی 1914 میں جنگِ عظیم اوّل میں دارالحکومت کے محاصرے کے دوران استعمال کیا گیا تھا۔

پولیس نے قریبی رہائشیوں کو علاقے سے اپنی گاڑیاں ہٹانے کا حکم دیا اور محتاط رہنے کی تاکید کرتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ اگر ممکن ہو تو گھروں سے چلے جائیں۔

اس گولے کو بلغراد سے تقریباً 60 کلومیٹر (37 میل) دور ریگستانی علاقے میں بھیج دیا گیا جہاں اسے تباہ کر دیا گیا تھا۔

سربیا میں گذشتہ جنگوں سے بچ جانے والے کئی بم ملے ہیں لیکن انہیں بغیر کسی دھماکے کے ہٹا دیا گیا ہے۔

نیس، جنوبی سربیا میں 1999 میں نیٹو کی بمباری کا ایک بڑا بم اپریل میں دریافت ہوا تھا جبکہ 2021 میں بلغراد کے مضافاتی علاقے میں ایک تعمیراتی مقام سے 242 کلوگرام وزنی بم ہٹایا گیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں