روس اور یوکرین کے درمیان متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں 300 جنگی قیدیوں کا تبادلہ
مختلف مواقع پر تبادلوں میں یوکرین کے تقریباً چار ہزار قیدی واپس آئے
یوکرین اور روس نے پیر کو جنگی قیدیوں کا ایک نیا تبادلہ کیا جس کے تحت فریقین مجموعی طور پر 300 سے زائد سابق جنگی اسیران کو وطن واپس لائے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور روس کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ کئیف کے 189 سابق قیدی وطن واپس پہنچے جبکہ روسی وزارت نے کہا کہ 150 روسی فوجی وطن واپس آ رہے تھے۔
روسی وزارت نے کہا کہ مغویوں کو یوکرین کے ساتھ 34 ماہ پرانی جنگ میں ماسکو کے قریبی اتحادی بیلاروس میں رہا کر دیا گیا ہے اور انہیں روس منتقل کر دیا جائے گا۔
یوکرین میں رائٹرز ٹیلی ویژن کی فوٹیج میں انتظار کرنے والے میاں بیوی اور چند فوجیوں کو دکھایا گیا جن میں سے کئی نیلے اور پیلے قومی پرچم میں لپٹے ہوئے تھے۔ تاریکی پھیل جانے کے کافی دیر بعد ایک عمارت کے باہر دوبارہ ملتے ہوئے وہ رو رہے تھے۔
موبائل فون پر ایک بچے کی بے یقینی سے بھرپور آواز گونجی: "بابا، یہ آپ ہیں؟"
جنگی قیدی سرہی نے کہا، "میرا بیٹا اب پانچ سال کا ہو گیا ہے، آخری بار جب میں نے اسے دیکھا تو وہ دو سال کا تھا۔" روسی افواج نے جنوبی بندرگاہ ماریوپول میں آزوف استال سٹیل مل میں انہیں حراست میں لے لیا تھا جس نے 2022 میں تقریباً تین ماہ تک محاصرے کا سامنا کیا۔
انہوں نے کہا، "شاید اسی لیے میرا بیٹا مجھے نہیں پہچان سکا۔ میری داڑھی اور بال ہوا کرتے تھے۔ میرا 20 کلو (44 پاؤنڈ) وزن کم ہو گیا ہے۔"
انتیس سالہ رومن بورش نے کہا، "اب بھی میں اپنے ہاتھ اپنی پشت پر رکھے ہوئے ہوں، یہ میری عادت بن گئی ہے۔ اب مجھے دوبارہ آزاد انسان بننے کی عادت ڈالنی ہو گی۔"
روسی وزارتِ دفاع کی پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ایک بس میں موجود فوجیوں کو مسکراتے ہوئے دکھایا گیا۔ بعض اپنے اہلِ خانہ کو فون کر رہے تھے۔
ایک آدمی نے کہا، "ہم جلد ہی گھر پہنچ جائیں گے۔ بچے کیسے ہیں؟ ہمارا لڑکا کیسا ہے؟"
ایک اور نے کہا، "میں جذبات سے مغلوب ہوں۔ میں اب بھی پوری طرح یقین نہیں کر سکتا کہ میں آزاد ہو گیا ہوں، میں گھر واپس آ گیا ہوں، وزارت نے ایسی کوششیں کی ہیں اور ہمیں یاد کیا جاتا ہے اور ہماری قدر کی جاتی ہے۔"
زیلنسکی نے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے پر متحدہ عرب امارات کے حکام اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔ متحدہ عرب امارات نے اعتراف کیا کہ اس نے تبادلے کا بندوبست کرنے میں مدد کی۔
زیلینسکی نے ٹیلی گرام پر کہا، "ہمارے لوگوں کی روسی قید سے واپسی ہم سب کے لیے ہمیشہ اچھی خبر ہوتی ہے۔ اور آج ایسا ہی ایک دن ہے: ہماری ٹیم 189 یوکرینی باشندوں کو گھر لانے میں کامیاب رہی۔"
اس بارے میں کوئی فوری وضاحت نہیں کی گئی کہ روسیوں سے زیادہ یوکرینی باشندوں کو کیوں رہائی ملی: رہا کردہ یوکرینیوں میں وہ عام شہری بھی شامل تھے جو روسی قید میں تھے۔
زیلنسکی نے کہا کہ واپس آنے والے یوکرینیوں میں فوجی، سارجنٹ اور صفِ اول کے علاقوں کے افسران اور ماریوپول میں حراست میں لیے گئے دو شہری شامل ہیں۔
محصور سٹیل مل
آزوف استال مل کا دفاع کرنے والی 12ویں سپیشل فورسز "آزوف" بریگیڈ کے کمانڈر ڈینس پروکوپینکو نے کہا کہ واپس آنے والوں میں ان کے 11 آدمی بھی شامل تھے۔ پروکوپینکو ایک سابقہ تبادلے میں گھر واپس پہنچے تھے۔
قیدیوں کے تبادلے کی نگرانی کرنے والے یوکرینی ادارے نے کہا کہ فروری 2022 میں روس کی جانب سے چھوٹے ہمسایہ ملک پر حملے کے بعد سے فریقین کے درمیان یہ 59 واں تبادلہ ہے۔ اس تبادلے سے یوکرین کے 3,956 اسیران واپس آئے ہیں۔
ادارے نے کہا کہ اس سال گھر آنے والوں میں وہ یوکرینی شہری بھی شامل تھے جنہیں مختلف جرائم پر روسی عدالتوں نے "نام نہاد سزائیں" سنائی تھیں۔
متحدہ عرب امارات ہی کی ثالثی میں اکتوبر میں ہونے والے آخری تبادلے میں دونوں میں سے ہر ایک ملک کے 95 قیدی گھروں کو واپس آئے تھے۔