روس اور یوکرین

یوکرین کے ڈرون حملے سے تیل کے ڈپو کو آگ لگ گئی: روسی گورنر

پیر کو فریقین کے درمیان 300 سے زیادہ جنگی قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس کے ایک علاقائی گورنر نے منگل کو بتایا کہ مغربی روس میں یوکرین کے ڈرون حملے کے نتیجے میں تیل کے ایک ڈپو میں آگ لگ گئی اور ایندھن کا اخراج ہوا۔

انوکھن نے منگل کے اوائل میں سوشل میڈیا پر لکھا، "بغیر پائلٹ ہوائی گاڑیوں میں سے ایک کا ملبہ تیل کے ایک ڈپو کے علاقے پر گرا۔ نتیجتاً ایندھن کا اخراج واقع ہوا اور ایندھن اور چکنائی دار مادوں کو آگ لگ گئی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ امدادی ادارے بدستور کام کر رہے تھے اور علاقے کی قرینی رہائشی عمارات کو "کوئی خطرہ" نہیں تھا۔

روس کی وزارتِ دفاع نے منگل کو اطلاع دی کہ 68 یوکرینی ڈرونز کو راتوں رات مار گرایا گیا جن میں سے 10 سمولینسک کے علاقے میں تباہ ہوئے۔

کئیف نے تقریباً تین سالہ تنازعے کے دوران توانائی کی کئی روسی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے ماسکو کی طرف سے یوکرین کے بجلی گھروں پر وسیع حملوں کا منصفانہ جواب تھے۔

روس کے سرحدی علاقے اکثر یوکرینی فضائی حملوں کا نشانہ بنے ہیں اور فریقین نے گذشتہ چند مہینوں سے اپنی بمباری میں اضافہ کیا ہے۔

سالِ نو کی شام سے قبل متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان 300 سے زیادہ جنگی قیدیوں کا تبادلہ ہوا جس کے ایک دن بعد منگل کا ڈرون حملہ ہوا ہے۔

فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر فوجی حملے کے بعد سے فریقین نے سینکڑوں قیدی فوجیوں کا تبادلہ کیا ہے – جو تعاون کے چند شعبوں میں سے ایک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں