ٹرمپ کا "غزہ بم" بحیرہ احمر میں پھٹ گیا، کارگو سیکٹر کی امیدیں ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی کی آبادی کو ہمسایہ ممالک منتقل کر کے اس کا کنٹرول سنبھالنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر تنقید اور مذمت کا دروازہ کھولا بلکہ لگتا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر میں مال بردار جہازوں کی آمد و رفت پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔

کارگو سیکٹر کے ایگزیکٹو ذمے داران نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کی مذکورہ تجویز نے ایک سال کے اضطراب کے بعد بحیرہ احمر کے راستے کی طرف واپسی کی امیدوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

ٹرمپ کے اچانک اعلان نے اس بات کے اندیشے پیدا کر دیے ہیں کہ یمن میں حوثی ملیشیا ایک بار پھر اس اہم آبی راہ داری سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرات پیدا کرے گی۔ حوثیوں نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی کے بعد زیادہ تر جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روک دیں گے۔

اس حوالے سے "نورڈن" کارگو گروپ کے چیف ایگزیکٹو جان رینڈبو نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے نے مشرق وسطیٰ میں گڑبڑ اور کشیدگی کی صورت بڑھا دی ہے۔ رینڈبو کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کے اعلان سے حوثیوں کے اپنے موقف پر قائم رہنے کا امکان خطرے میں پڑ گیا ہے۔ یہ بات برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" نے بتائی۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے ابتدائی ایام میں ٹرمپ نے ایک بار پھر کئی تجارتی شراکت داروں پر کسٹم ڈیوٹیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دیں۔ ان کے نتیجے میں تجارتی جنگیں چھڑ جانے اور عالمی معیشت کے زوال کے اندیشے پیدا ہو گئے جو بحری جہازوں کے مالکان کے منافع کو متاثر کر سکتے ہیں۔

حوثیوں نے 19 جنوری کو بحری جہازوں کے گزرنے پر سے پابندیاں اٹھانے کا اعلان کر دیا تھا ما سوا وہ جہاز جو اسرائیل میں رجسٹرڈ ہیں یا مکمل طور پر اسرائیلی اداروں کی ملکیت ہیں۔

غزہ کی حمایت میں حوثیوں نے سال 2023 کے اواخر میں اسرائیلی بندر گاہوں کا رخ کرنے والے تمام بحری جہازوں اور اسی طرح برطانوی اور امریکی اداروں کے مملوکہ بحری جہازوں کو دھمکی دی تھی۔

لائڈز لیسٹ انٹیلی جنس کمپنی کے مطابق حوثیوں کے اعلان کے بعد اگلے ایک ہفتے میں آبنائے باب المندب کے راستے بحیرہ احمر میں داخل ہونے والے جہازوں کی تعداد 4% اضافے کے ساتھ 223 ہو گئی۔

ادھر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ LNG (گیس) کا ایک ٹینکر جو حال ہی میں عُمان سے روانہ ہوا تھا، ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد بحیرہ احمر کے راستے غیر روسی LNG کی پہلی کھیپ منتقل کرے گا۔ یہ بات بنیادی اشیاء کی معلومات رکھنے والی کمپنی ICIS نے بتائی۔

توقع ہے کہ LNG کا بحری جہاز "صلالہ" 16 فروری کو ترکی کی بندر گاہ پہنچے گا۔

البتہ بحری جہازوں کے مزید مالکان اب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور حملے کم کرنے سے متعلق حوثیوں کے اپنے وعدے سے پھر جانے کے حوالے سے خود کو تیار کر رہے ہیں۔

تاجر حضرات اس بات کی توقع کر رہے تھے کہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک کارگو کی مدت اور لاگت میں اضافے کا سبب بننے والے بحران کے بعد معمول کی صورت حال پر لوٹ آئیں گے۔ واضح رہے کہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والے کارگو بحری جہازوں نے افریقا کے گرد طویل راستہ اپنایا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں