واشنگٹن، ڈی سی میں 13 فروری 2025 کو وائٹ ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی مصافحہ کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ بھارت نے امریکہ کو ایک تجارتی معاہدے کی پیشکش کی ہے جس میں "کسی محصول کی تجویز نہیں" ہے۔
بڑے تجارتی شراکت داروں کے لیے ٹرمپ کے اعلان کردہ اضافہ شدہ محصول میں اس وقت 90 دن کا وقفہ ہے جس کے اندر نئی دہلی امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس میں بھارت پر 26 فیصد ٹیرف شامل تھا۔
دوحہ میں سربراہانِ مملکت سے ایک میٹنگ میں ٹرمپ نے کہا، "بھارت میں فروخت کرنا بہت مشکل ہے اور وہ ہمیں ایک ایسے سودے کی پیشکش کر رہے ہیں جہاں بنیادی طور پر وہ ہم سے کوئی ٹیرف وصول نہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔"
امریکہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ان کی دو طرفہ تجارت 2024 میں تقریباً 129 بلین ڈالر رہی۔ تجارتی توازن فی الحال بھارت کے حق میں ہے جو امریکہ کے ساتھ 45.7 بلین ڈالر سرپلس ہے۔