پاکستان اور بھارت

سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بھارتی اقدام پرعالمی بینک بھی بول پڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عالمی بینک کے صدر نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس معاہدے کو دونوں فریقین کی مرضی سے ختم یا اس میں ترمیم تو کی جا سکتی ہے مگر یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔

ٹیلی ویژن چینل سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر عالمی بینک اجے بنگا نے میزبان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے ( انڈس واٹر ٹریٹی ) کی معطلی کے بھارتی اقدام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا گیا، بلکہ تکنیکی طور پر بھارتی حکومت نے اسے ’ التوا میں’ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے میں معطلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس معاہدے کو ختم یا تبدیل تو کیا جاسکتا مگر اس کے لیے دونوں ممالک کا راضی ہونا ضروری ہے۔

اجے بنگا نےکہا کہ سندھ طاس معاہدے میں عالمی بینک کا کردار بنیادی طور پر سہولت کار کا ہے، اگر فریقین میں اختلاف ہو تو ہمارا کام فیصلہ کرنا نہیں ہے، بلکہ ان کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار ماہر یا ثالثی عدالت تلاش کرنے کے لیے ایک عمل سے گزرنا ہے۔

صدر عالمی بینک کا کہنا تھا کہ ہمیں ان لوگوں کی فیس ایک ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے ادا کرنی ہوتی ہے جو معاہدے کے وقت بینک میں قائم کیا گیا تھا، ہمارا کردار بس اتنا ہی ہے، اس سے آگے ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے ابھی تک کسی بھی ملک سے سندھ طاس معاہدے ( کی معطلی ) سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ملی ہے، میں جانتا ہوں کہ میڈیا میں اس بارے میں بہت قیاس آرائیاں ہیں کہ عالمی بینک بھارتی اقدام کا سدباب کرے گا یا نہیں، یا اس ( عالمی بینک ) سے رجوع کیا جائے گا یا نہیں، یہ سب فضول باتیں ہیں کیونکہ ہمارا ایسا کوئی کردار نہیں ہے۔

اجے بنگا نے کہا کہ یہ معاہدہ دو خودمختار ممالک کے درمیان ہے اور انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں، یہ ان کا فیصلہ ہوگا، یہ معاہدہ 60 سال سے چلا آرہا ہے، اگرچہ اس پر عمل درآمد کے سلسلے میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی کم وکاست کے بغیر اس معاہدے میں عالمی بینک کا کردار وہی ہے جو معاہدے میں بیان کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size