پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ہونا چاہیے: بھارت

ہر طرف سے ناکامی اور مایوسی کے بعد بھارت نے نیا شوشہ چھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان گذشتہ ہفتے کے تنازع کے بعد بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو اقوامِ متحدہ کی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں لایا جانا چاہیے۔

سنگھ نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے سری نگر میں ایک فوجی مرکز پر فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "میں یہ سوال دنیا کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ کیا پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں؟ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو آئی اے ای اے کی جانچ پڑتال کے دائرے میں لایا جائے۔"

سنگھ کے تبصرے اس وقت سامنے آئے جب جوہری ہتھیاروں سے آراستہ حریفوں نے تقریباً تین عشروں میں اپنے بدترین فوجی تنازع کے بعد ہفتے کے روز جنگ بندی کا اعلان کیا۔

اس تنازعہ سے عالمی خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ یہ ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا تھا۔

لڑائی گذشتہ بدھ کو اس وقت شروع ہوئی جب بھارت نے پاکستان میں "دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے" کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان نے فوری طور پر بھاری توپ خانے سے جوابی کارروائی کی اور تین دن بعد دس مئی کو جنوبی ایشیائی حریفوں کے درمیان ایک زوردار معرکہ ہوا جس میں دونوں طرف سے تقریباً 70 افراد ہلاک ہوئے۔

بھارت نے اس مختصر تنازع کے دوران پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔

"ہم نے کیرانہ پہاڑیوں پر حملہ نہیں کیا،" یہ بات انڈین ایئر مارشل اے کے۔ بھارتی نے نامہ نگاروں کو بتائی۔ کیرانہ ایک وسیع چٹانی پہاڑی سلسلہ ہے جہاں بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیار ذخیرہ کر رکھے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں