باخبر ذرائع کے مطابق ایرانی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی لبنان آمد کا مقصد ایک سفارتی پیغام دینا ہے۔ ایک ایسا پیغام جو قومی سلامتی کے اصولوں پر مبنی تھی۔
ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ لاریجانی نے لبنان کے کئی حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کی اور ان کا واضح پیغام یہ تھا کہ "حزب اللہ ایران کی قومی سلامتی کا حصہ ہے اور اس کے ہتھیار واپس لینا ممکن نہیں"۔
ہم یہاں ہیں
مزید بتایا گیا کہ ایرانی عہدیدار نے حزب اللہ کے لیے کوئی خفیہ ہدایت نہیں لائی، بلکہ ان کے پیغام کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہتھیار واپس لینے والے سمجھ لیں کہ "ہم یہاں موجود ہیں"۔
ذرائع کے مطابق یہ پیغام "متعلقہ فریقین" کو بھیجا گیا اور اس کا مفہوم واضح تھا کہ "جنگ یا بات چیت ہمارے ساتھ" ہوگی۔
ہتھیار صرف حکومت کے پاس
لبنان کے صدر جوزف عون نے علی لاریجانی سے ملاقات کے دوران کہاکہ "کسی بھی فریق کے لیے بغیر کسی استثناء کے ہتھیار رکھنا اور بیرون ملک سے طاقت حاصل کرنا ممنوع ہے"۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے ملاقات کے بعد کہا کہ "کچھ ایرانی عہدیداروں کے حالیہ بیانات نہ صرف غیر مناسب ہیں بلکہ لبنان کی آئینی حکومت کی طرف سے کیے گئے فیصلوں پر براہِ راست تنقید بھی ہیں۔ یہ موقف سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی اور باہمی خودمختاری کے احترام کے اصول کی کھلی توہین ہے"۔
یاد رہے کہ لبنان کی حکومت نے گذشتہ ہفتے ہتھیار صرف ریاست کے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا اور فوج کو ہدایت دی کہ وہ اس منصوبے کو اس مہینے کے آخر تک تیار کرے، تاکہ ہتھیار کی واپسی سال کے آخر تک مکمل ہو جائے۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب امریکہ نے اپنے نمائندے تھامس براک کے ذریعے حزب اللہ کے ہتھیار واپس لینے کے لیے تفصیلی منصوبہ پیش کیا، جسے حزب اللہ نے گذشتہ سال اسرائیل کے ساتھ تباہ کن جنگ کے بعد سے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔