حزب اللہ کے سربراہ کا اسرائیل کے خلاف جاری حمایت پر ایران کا شکریہ

ایران اور لبنان کے حکام کے درمیان حال ہی میں ملاقات ہوئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنانی مزاحمتی گروپ حزب اللہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کی جاری حمایت پر ایک سینئر ایرانی اہلکار کا شکریہ ادا کیا ہے۔

کئی عشروں سے تہران اس گروپ کا اہم حمایتی رہا ہے۔

گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ قاسم نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی سے ملاقات کی جو بدھ کے روز بیروت پہنچے تھے اور "لبنان کی جاری حمایت اور اسرائیلی دشمن کے خلاف مزاحمت پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔"

انہوں نے لبنان کے "اتحاد، خودمختاری اور آزادی" کے لیے بھی ایران کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور "لبنانی اور ایرانی عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات" پر زور دیا۔

لاریجانی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب لبنانی حکومت نے فوج کو اس سال کے آخر تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کا کام تفویض کیا ہے۔

حزب اللہ کے ہتھیار رکھنے کی حمایت میں ایرانی حکام کے حالیہ بیانات نے لبنانی حکام کو ناراض کر دیا ہے۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے بدھ کے روز لاریجانی کو بتایا، "ہم اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا، "کسی کے لیے بھی ہتھیار رکھنا اور غیر ملکی حمایت کو اپنے حق میں استعمال کرنا ممنوع ہے۔"

وزیرِ اعظم نواف سلام نے بھی برابر ثابت قدمی سے کہا، "لبنان اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت قبول نہیں کرے گا اور ایرانی فریق سے ان اصولوں کے احترام کے لیے واضح عزم کی توقع رکھتا ہے۔"

لاریجانی نے کہا، "لبنانی حکومت مزاحمتی گروپ کی مشاورت سے جو بھی فیصلہ کرے، وہ ہمارے لیے قابلِ احترام ہے۔"

انہوں نے کہا، "لبنان کے معاملات میں مداخلت وہ کر رہا ہے جو آپ کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے اور ہزاروں کلومیٹر دور سے آپ کو ٹائم ٹیبل دیتا ہے، ہم نے آپ کو کوئی منصوبہ نہیں دیا۔"

ان کا اشارہ واشنگٹن کی طرف تھا جس نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے بیروت پر شدید دباؤ ڈالا حتیٰ کہ اس عمل کے لیے مقررہ وقت سمیت ایک تفصیلی تجویز بھی پیش کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں