ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی ایرانی عوام سے سڑکوں پر ایرانی حکومت کے خلاف نکلنے کی اپیل اور سڑکوں پر نکلنے کے بدلے میں ایرانی شہریوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے اور اپنے ماہرین بھیجنے کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ایرانی عوام کو اس سے بڑا دھوکہ دینے کی کوشش نہیں ہو سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے نیتن یاہو کے اس ویڈیو کے ذریعے دی گئی پیش کش کو ایک کھلا دھوکہ اور سراب قرار دیا ہے۔ کہ یہ اسرائیلی ریاست غزہ میں لوگوں کو پانی اور خوراک سے محروم رکھے ہوئے اور بھوک اور پیاس سے مارہی ہے۔
اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم کی طرف سے یہ پیش کش منگل کے روز سامنے آئی تھی۔
جس میں ایرانی عوام کو مخاطب کر کے کہا گیا تھا وہ ایرانی رجیم سے جان چھڑوائیں۔ اسرائیلی ماہرین ایران کے ہر شہر تک بڑی تعداد میں پہنچ کر جدید ٹیکنالوجی سےایرانیوں کی مدد کو پہنچ جائیں گے۔
نیتن یاہو نے یہ بھی کہا تھا 'ایرانی قوم کو اپنی آزادی کے لیے رسک لینا چاہیے اور سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا چاہیے۔ کیونکہ ایسا کرنا تمام ایرانیوں کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔'
اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم کی یہ ویڈیو ایسے وقت سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو کو خود بھی اسرائیل میں عوامی احتجاج سمیت کئی عدالتی مسائل کا سامنا ہے۔
وہ اس وقت واحد حکمران ہیں جن کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی دونوں قسم کی عدالتوں میں سنگین مقدمات کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے جنگی جرائم کے لیے اسرائیلی ریاست کے وزیر اظم کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر رکھے ییں۔ جبکہ اسرائیلی عوام 22 ماہ سے جاری جنگ سے تنگ آرہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مختلف ادارے اسرائیلی ریاست پر فلسطینیوں کو بھوک اور قحط کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مارنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
یاد رہے اسرائیلی ریاست نے 22 ماہ سے لمبی جنگ کے باوجود ہمت نہ ہارنے والے فلسطینیوں کے حوصلے پست کر کے انہیں اپنی سرزمین چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں چلے جانے پر مجبور کرنے کے لیے اپنی تاریخ کی سب سے طویل ناکہ بندی دو مارچ سے شروع کر رکھی ہے۔ تاکہ غزہ میں پانی ، خوراک کی غزہ منتقلی روک رکھی ہے۔
صدر مسسعود پیز شکیان نے کہا جو اسرائیلی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ یہ سلوک کر رہی ہے وہ ایرانیوں کو پانی دے گی؟ یہ سب سے بڑا جھوٹا خواب دکھانے کی کوشش اور انہیں سراب کے دھوکے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ مسعود پیزشکیان کا یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر سامنے آیا ہے۔
ادھر غزہ میں پچھلے چند ہفتوں میں دو سو سے زائد فلسطینی صرف غزہ میں بھوک اور پیاس سے اسرائیلی ریاست قتل کر چکی ہے۔ ان میں سو سے زائد فلسطینی بچے بھی شامل ہیں۔ ان بھوک اور پیاس سے غزہ میں قتل کیے گئے بچوں کی تصویروں نے عالمی سطح پر اسرائیلی ریاست کا اصل چہرہ خوب ایکسپوز کر دیا ہے۔
ریاست نے صرف دو ماہ قبل ایران پر غیر معمولی جنگ مسلط کی تھی اور ایرانی فوجی و شہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے علاوہ حساس جوہری تنصیات کو بھی بدترین بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیلی بمباری میں مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا اور عام ایرانیوں کی بڑی تعداد کے علاوہ ایرانی فوج کی اعلیٰ ترین قیادت اور ملک کے چوٹی کے سائنسدانوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔ جبکہ ایرانی جوہری پروگرام کو غیر معمولی بمباری کر کے نقصان پہنچایا۔
معاشی اعتبار سے برسوں سے امریکی و یورپی پابندیوں کا نشانہ بن کر معاشی تںاہی سے دوچار ایران کے لیے یہ جنگ بڑی خطر ناک ثابت ہوئی۔جس نے ایران کو مزید کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کہ اسرائیل نے ایرانی توانائی کے مراکز کو بھی بطور خاص تباہ کرنے لیے بمباری کی تھی۔
اب نیتن یاہو نے عوامی مسائل کے بڑھ جانے کی صورت میں حالیہ بارہ روزہ جنگ کے دو ماہ بعد ایرانی عوام کو کال دی ہے کہ بجلی و پانی کی اس قلت اور ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔ نیتن یاہو کی اپیل ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے دنوں میں رجیم چینج کی شروع کی جانے والی کوششوں کا ہی ایک حصہ ہے۔