ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات سے کوئی خیر نہیں نکلی: یوکرین
پاولو نیبروو نے نصف شب تک صدر ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کا ہزاروں کلومیٹر دور کیف میں بیٹھ کر انتظار کیا۔
صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کی ملاقات الاسکا میں ہوئی تاکہ تین سال سے زائد پر پھیلی روس اور یوکرین کی جنگ کو روکنے کے لیے گفتگو کر سکیں۔ یہ 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی۔
تاہم دونوں ملکوں کے سربراہان کے درمیان کی اس ملاقات میں روس یوکرین جنگ بندی کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی کیف کو اس ملاقات سے کوئی اچھی خبر ملی ہے۔
38 سالہ تھیٹر مینیجر نیبروو کا کہنا ہے کہ انتہائی پروٹوکول میں ہونے والی ملاقات پیوٹن کے لیے کھلی جیت تھی۔'
انہوں نے کہا ' میں توقع کرتا تھا مگر اس سے پیوٹن کو ایک بڑی سفارتی فتح ملی ہے۔ کیونکہ اس ملاقات کے بعد پیوٹن نے اپنی جنگ کو مکمل طور پر جائز منوا لیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس ملاقات میں یوکرین جنگ پر گفتگو کے باوجود جنگ کے ایک فریق یوکرینی صدر زیلنسکی کو ملاقات میں شرکت کی دعوت نہیں دی تھے۔
نیبروو نے کہا میں بہت سے یوکرینی شہریوں کی طرح سمجھتا ہوں کہ یہ پیوٹن کی ذاتی فتح کا موقع بنایا گیا یے۔
اس ملاقات میں یوکرینی صدر کو اس کے باوجود نہیں بلایا گیا کہ یہ ایشو براہ راست یوکرین سے متعلق تھا۔
صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کے بعد یوکرینی صدر سمیت یورپی قائدین سے ملاقات کی ہے۔ جس کے بعد زیلنسکی نے کہا وہ پیر کے روز واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے جائیں گے۔
ہاد رہے ٹرمپ پیوٹن ملاقات بغیر کسی ظاہری نتیجے کے ختم ہو ئی ہے۔ اور ٹرمپ کی صحافیوں سے سوال وجواب والی کوئی بات چیت بھی نہیں ہوئی ہے۔
یہ صدر ٹرمپ کے لیے انتہائی غیر معمولی بات ہے کہ ٹرمپ نے میڈیا سے گریز کیا ہے۔ 36 سالہ اولیا ڈونک نے کہا کہ جب وہ نیبریوو کے ساتھ کھارکیو کے ایک دھوپ والے پارک سے گزر رہی تھیں تو وہ واقعات کے اس مرحلے سے بھی حیران ہوئیں ۔
ان کا مزید کہنا تھا اس بات چیت کے محض چند گھنٹے بعد روس نے رات کے وقت 85 ڈرونز اور ایک بیلسٹک میزائل یوکرین پر فائر کیا ہے۔
ایک 50 سالہ فوٹوگرافر ایرینا ڈرکاچ نے کہا' بات چیت ہو یا نہ ہو، کھارکیو پر تقریباً ہر روز گولہ باری کی جا رہی ہے۔