یوکرین کو مضبوط سکیورٹی ضمانتیں فراہم کی جائیں: یورپی رہنماؤں کا زور

یورپی رہنماؤں نے کہا کہ روس یوکرین کی یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت کی کوششوں کی مخالفت نہیں کر سکتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یورپی رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی اور روسی صدر ولادی میر پوتین کے درمیان مجوزہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں میں تعاون کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

آج ہفتے کے روز ٹرمپ اور زیلنسکی کے ساتھ مشترکہ کال کے بعد یورپی یونین کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں مذکورہ رہنماؤں نے امریکی صدر کی ان کوششوں کا خیر مقدم کیا جن کا مقصد "یوکرین میں خون ریزی روکنا، روسی جنگ ختم کرنا اور منصفانہ و پائے دار امن قائم کرنا" ہے۔انھوں نے کہا کہ "اب اگلا قدم زیلنسکی کی شمولیت اور یورپی سرپرستی میں مزید بات چیت ہونا چاہیے"۔

اسی دوران یورپی رہنماؤں نے یوکرین کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مضبوط سکیورٹی ضمانتوں پر زور دیا۔ انھوں نے امریکی صدر کے اس بیان کا خیر مقدم کیا جس میں امریکا کی جانب سے سیکیورٹی ضمانتیں دینے کی تیاری ظاہر کی گئی تھی۔

یوکرین اور نیٹو

یورپی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ یوکرین کی مسلح افواج یا اس کے تیسرے ممالک کے ساتھ تعاون پر کوئی پابندی نہیں لگائی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق روس کو یوکرین کی یورپی یونین یا نیٹو میں شمولیت کی کوششوں کی مخالفت کا کوئی حق نہیں ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی سرحدوں کو طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یوکرین اور یورپ کے لیے مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں کسی بھی امن معاہدے کے لیے "انتہائی ضروری" ہیں۔

ٹرمپ کا موقف نہایت اہم ہے

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالاس نے اپنے بیان میں کہا کہ روس جلد اپنی جنگ ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، لیکن امریکا کے پاس سنجیدہ مذاکرات مسلط کرنے کی صلاحیت ہے۔

انھوں نے مزید کہا "صدر ٹرمپ کا امن معاہدہ کرنے کا عزم نہایت اہم ہے... صدر پوتین مذاکرات کو طول دے رہے ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ وہ اس سے نکل جائیں گے۔ وہ انکوریج (الاسکا) سے بغیر کسی عہد کے روانہ ہوئے"۔

کالاس کے مطابق امریکا کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ روس کو سنجیدگی سے مذاکرات پر مجبور کرے اور یورپی یونین اس معاملے میں یوکرین اور امریکا کے ساتھ کام کرے گی۔

اس سے قبل یورپی رہنماؤں اور زیلنسکی نے مشترکہ ٹیلی فون کال پر ٹرمپ سے گفتگو کی۔ گفتگو کے دوران ٹرمپ نے پوتین کے ساتھ الاسکا ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

بعد ازاں ٹرمپ نے بتایا کہ سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک مضبوط اور بہتر امن معاہدہ محض ایک عارضی فائر بندی سے زیادہ اہم ہے۔

جمعے کے روز الاسکا کے فوجی اڈے پر امریکی اور روسی صدور کی ملاقات اگرچہ متعدد امور پر بات چیت کے بعد ختم ہوئی، لیکن اس سے یوکرین میں جنگ بندی کے کسی معاہدے کی شکل اختیار نہ ہو سکی۔

البتہ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور پوتین کئی اہم معاملات پر متفق ہو گئے ہیں، لیکن ایک "انتہائی اہم مسئلہ" ابھی حل طلب ہے جس کا انھوں نے انکشاف نہیں کیا۔ ٹرمپ نے اجلاس کو "شان دار" قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں