یوکرین اور روس میں جنگ بندی پاکستان اور بھارت کےدرمیان سیز فائر سے زیادہ مشکل ہے:ڈونلڈ ٹرم
ہماری ایٹمی آبدوز دنیا کی طاقتور ترین اور روس کے ساحلوں کے قریب موجود ہے، ولادی میر پوتین کو میزائل تجربات کے بجائے یوکرین جنگ ختم کرنی چاہیے: امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کی جانب سے ایٹمی توانائی سے چلنے والے کروز میزائل کے تجربے کے اعلان کو “غیر مناسب” قرار دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد یوکرین جنگ کو فوری طور پر ختم کر دیں گے، تاہم ان کے بقول ماسکو اور کئیف کے درمیان مذاکرات بدستور تعطل کا شکار ہیں، حالانکہ مصالحت کی کئی کوششیں کی جا چکی ہیں۔
ایئر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “پوتین کو چاہیے کہ وہ یوکرین میں جنگ ختم کریں۔ یہ جنگ جسے صرف ایک ہفتہ چلنا تھا، اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو رہی ہے۔ انہیں میزائل تجربات کے بجائے امن پر توجہ دینی چاہیے"
جب ان سے روسی میزائل کے بارے میں سوال کیا گیا جس کے بارے میں ماسکو کا کہنا ہے کہ وہ 14 ہزار کلومیٹر تک پرواز کر سکتا ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ امریکہ کو اتنا دور جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہماری ایک ایٹمی آبدوز روس کے ساحلوں کے قریب موجود ہے"۔
انہوں نے کہاکہ "انہیں بہ خوبی معلوم ہے کہ ہماری ایٹمی آبدوز دنیا کی عظیم ترین ہے، جو ان کے ساحلوں کے قریب موجود ہے، لہٰذا ہمیں 8 ہزار میل تک اڑان بھرنے کی ضرورت نہیں"۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ “جنگ ختم ہونی چاہیے تھی، نہ کہ ایٹمی میزائلوں کے تجربے کیے جاتے"۔ جب ان سے روس کے خلاف مزید پابندیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا "دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے"۔
انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یوکرین کی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کی سب سے خونریز لڑائی بن چکی ہے۔ تاہم ٹرمپ کے مطابق یوکرین میں امن قائم کرنا غزہ میں جنگ بندی کرانے یا بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع ختم کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتین نے اتوار کو اعلان کیا کہ ان کے ملک نے “بورویوسٹینک” نامی کروز میزائل کا حتمی اور کامیاب تجربہ مکمل کر لیا ہے، جس کا دائرہ کار “لامحدود” بتایا گیا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
پوتین نے مزید کہا کہ میزائل کو عملی طور پر تعیناتی کے لیے تیار کرنے میں ابھی مزید کام باقی ہے، لیکن اہم مراحل کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔
روسی فوج کے سربراہ والیری گراسیموف نے پوتین کو بتایا کہ “بورویوسٹینک” میزائل نے 21 اکتوبر کو کیے گئے تجربے کے دوران تقریباً 15 گھنٹے تک پرواز کی اور 14 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، جبکہ یہ اس کی مکمل صلاحیت نہیں۔
سفارتی محاذ پر ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ پوتین سے نئی ملاقات طے کرنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے، جب تک کہ روسی صدر جنگ ختم کرنے کے لیے سنجیدہ دلچسپی ظاہر نہ کریں۔
ادھر روس نے اتوار کو اپنے بیان میں امریکہ کے ساتھ “تعمیری مکالمے” کو نقصان پہنچانے کی “کوششوں” کی مذمت کی ہے۔