روس کا نئے میزائل کا تجربہ "نا مناسب" ہے : ٹرمپ

پوتین کے اعلان کے مطابق ’’بورِیویست نِک‘‘ میزائل کے حتمی تجربات مکمل ہو چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کے اُس اعلان کو ’’نامناسب‘‘ قرار دیا ہے جس میں انھوں نے ایٹمی توانائی سے چلنے والے ایک کروز میزائل کے تجربے کا انکشاف کیا تھا۔

ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ جنوری میں وائٹ ہاؤس واپس آئے تو یوکرین کی جنگ کا جلد از جلد خاتمہ کر دیں گے، تاہم روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات ثالثی کی کوششوں کے باوجود تعطل کا شکار ہیں۔

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز صدارتی طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :

’’اُنھیں (پوتین کو) جنگ ختم کرنی چاہیے۔ یہ جنگ جو صرف ایک ہفتے میں ختم ہو جانی چاہیے تھی، اب اپنے چوتھے سال کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اُنھیں میزائل آزمانے کے بجائے یہی کام کرنا چاہیے۔‘‘

ادھر پوتین نے اتوار کو اعلان کیا کہ روس نے ’’بورِیویست نِک‘‘ نامی کروز میزائل کا حتمی اور کامیاب تجربہ کیا ہے، جس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’’اس کی پہنچ لامحدود ہے۔‘‘

روسی صدر نے مزید وضاحت کی کہ میزائل کے تجربات مکمل ہو چکے ہیں، البتہ اسے جنگی تیاری کی حالت میں لانے کے لیے ابھی مزید کام درکار ہے، لیکن ’’اہم مراحل‘‘ کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب روسی فوج کے سربراہ والیری گیراسیموف نے صدر پوتین کو بتایا کہ ’’بورِیویست نِک‘‘ میزائل نے 21 اکتوبر کے تجربے کے دوران 15 گھنٹے تک پرواز کی اور 14 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، تاہم یہ ’’اس کی مکمل صلاحیت‘‘ نہیں ہے۔

سفارتی محاذ پر، امریکی صدر نے ہفتے کو کہا تھا کہ وہ روسی صدر سے نئی ملاقات کے انتظام میں ’’اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے‘‘ جب تک کہ پوتین جنگِ یوکرین ختم کرنے کے کسی ’’سنجیدہ معاہدے‘‘ میں دل چسپی ظاہر نہ کریں۔

دوسری طرف، روس نے اتوار کے روز اپنے بیان میں ان ’’کوششوں‘‘ کی مذمت کی جن کا مقصد ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان ’’تعمیری مکالمے‘‘ کو سبوتاژ کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں