کیف پر روسی فضائی حملے نے جرمن وزیر کو پناہ لینے پر مجبور کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی فضائی حملے کے دوران جرمنی کی وزیر اقتصادیات کترینا ریشے راتوں رات ایک پناہ گاہ میں داخل ہونے پر مجبور ہو گئیں۔ ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں کترینا ریشے نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہ تکلیف دہ تجربہ یوکرینیوں کے لیے روزمرہ کا ایک افسوسناک معمول بن گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات مجھ پر ایک بار پھر واضح ہو گئی کہ یوکرین کے لوگوں پر روس کے حملوں کا مقصد انہیں تھکا دینا ہے۔

جرمن پریس ایجنسی کے مطابق یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کترینا ریشے جمعے کو ایک اقتصادی وفد کے ساتھ کئی دنوں تک جاری رہنے والے دورے کے لیے یوکرین پہنچی تھیں۔ جرمن وزیر نے موسم سرما سے قبل بجلی اور حرارتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے والے حملوں کو ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے جنگ سے تباہ ہونے والے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ ان کا ملک یوکرینیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

9 بیلسٹک میزائل

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق روس نے رات کے حملے کے دوران درجنوں ڈرونز سمیت نو بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس نے سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 770 بیلسٹک میزائل اور 50 سے زیادہ کروز میزائل یوکرینی سرزمین پر داغے ہیں۔ کیف پر حملے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 12 دیگر زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ بیلسٹک میزائل کروز میزائلوں سے اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ بیلسٹک صرف لانچنگ کے دوران تیز ہوتے ہیں اور پھر ہدف کی طرف مڑے ہوئے راستے پر چلتے ہیں اور کروز میزائلوں میں اندرونی انجن ہوتے ہیں جو انہیں طویل عرصے تک کم اونچائی پر پرواز کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں