سات نومبر 2025 کو جکارتہ کے ایک سکول میں دھماکے کے بعد پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
انڈونیشیا میں سکول کے دھماکوں میں تقریباً 100 زخمی، طالب علم سے تفتیش جاری
انڈونیشیا کے حکام نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ ایک طالب علم سے تفتیش کر رہے ہیں جس پر دارالحکومت جکارتہ کے ایک سکول میں دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام ہے۔
دھماکوں میں شمالی جکارتہ کے ایک سکول کی مسجد اس وقت نشانہ بنی جب لوگ نمازِ جمعہ کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ اس واقعے سے نمازیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
قومی پولیس کے سربراہ نے کہا کہ تفتیش کاروں نے اپنی تحقیقات میں "شواہد کی کئی کڑیاں" جمع کی ہیں۔
پولیس کے سربراہ Listyo Sigit Prabowo نے Kompas TV پر نشر کردہ تبصروں میں کہا، "ہمارے پاس تحریر ہے اور پاؤڈر کے بھی شواہد موجود ہیں جو دھماکے کا ممکنہ سبب بنا ہو گا۔"
حکام نے اب تک ایک مشتبہ شخص کی شناخت کی ہے جو دھماکوں میں زخمی ہونے والا ایک طالب علم ہے لیکن لسٹیو نے دیگر افراد کے ملوث ہونے کا امکان مسترد نہیں کیا۔
پولیس چیف نے مزید کہا، تفتیش کار ملزم کے اہلِ خانہ اور سوشل میڈیا کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ کم از کم 14 زخمی ہنوز ہسپتال میں داخل ہیں جن میں سے دو انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
انہوں نے سابقہ تعداد 54 میں نیا اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں چھیانوے افراد زخمی ہوئے۔
انسدادِ دہشت گردی پولیس یونٹ ڈینسس 88 کے ترجمان میندرا ایکا وردھنا نے اے ایف پی کو بتایا، تفتیش کاروں نے مشتبہ شخص کے گھر کی تلاشی لی ہے۔ وہ بدستور اس واقعے کے محرکات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ایک گواہ نے اے ایف پی کو بتایا، جو کچھ ہوا اس پر الجھن ہے۔
"پہلے ہم نے سوچا کہ دھماکہ کسی الیکٹرانک آلات میں ہوا، شاید ساؤنڈ سسٹم میں لیکن پتہ چلا کہ یہ جائے نماز کے نیچے سے ہوا،" ایک 17 سالہ طالبہ کنزیٰ غیسان ریان نے جمعہ کو بتایا۔