ایک اسرائیلی عہدے دار نے ایک امریکی ذمے دار کی جانب سے دیے گئے اس بیان کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوج کے زیر قیادت "رابطہ مرکز" ... اسرائیل کی جگہ لے کر غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی انسانی امداد کا نگران بنے گا۔
مذکورہ رابطہ مرکز غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کا ذمے دار ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی عہدے دار نے آج ہفتے کے روز کہا کہ امریکی فورسز اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ میں امداد کی ترسیل اور اس کے انتظام و انصرام کی نگرانی میں شریک ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی سلامتی کے ادارے پالیسی سازی، نگرانی اور فیصلوں میں مشترکہ طور پر حصہ لینا جاری رکھیں گے، اور اس وقت رابطہ کمیٹی کے انضمام کا عمل پہلے ہی جاری ہے۔
عہدے دار نے تصدیق کی کہ امریکہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ امدادی رابطے کی قیادت کرے گا، جبکہ اُن پابندیوں کو برقرار رکھا جائے گا جو غیر سرکاری تنظیموں کی فہرست اور اُن اشیاء پر عائد ہیں جنھیں اسرائیل "دہرا استعمال" (یعنی شہری اور عسکری دونوں مقاصد کے لیے قابلِ استعمال) سمجھتا ہے۔ یہ بات خبر رساں ادارے "روئٹرز" نے بتائی۔
اس سے قبل ایک امریکی ذمے دار نے انکشاف کیا تھا کہ شہری و عسکری رابطے کا مرکز، جس نے گزشتہ ماہ جنوبی تل ابیب میں امریکہ کی قیادت میں کام شروع کیا تھا، اب اسرائیل کی جگہ غزہ کے لیے امداد کے داخلے کی نگرانی کرے گا۔ یہ بات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بتائی۔
با خبر ذرائع کے مطابق اسرائیل اس عمل کا حصہ رہے گا، تاہم شہری و عسکری رابطے کا یہ مرکز اس بات کو طے کرے گا کہ غزہ میں کون سی اور کس نوعیت کی امداد داخل ہو گی۔
یہ مرکز گزشتہ اکتوبر کے آخر میں جنوبی اسرائیل سے اپنی سرگرمیاں شروع کر چکا ہے، جس کا مقصد امداد کی ترسیل میں سہولت پیدا کرنا اور غزہ میں سلامتی و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ یہ بات امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) نے بتائی۔
اس کے باوجود جنگ بندی کے تحت توقع کی جا رہی تھی کہ امداد کا بہاؤ اس گنجان آباد اور محصور غزہ کی پٹی تک بڑھ جائے گا ... جہاں اگست میں قحط کی تصدیق ہو چکی تھی اور تقریباً 23 لاکھ کی آبادی کا بیشتر حصہ اپنے گھروں سے محروم ہو چکا ہے۔
لیکن انسانی امدادی اداروں نے گزشتہ ہفتے وضاحت کی کہ غزہ میں داخل ہونے والی امداد اب بھی بہت تھوڑی ہے۔
ادھر اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کر رہا ہے جس کے تحت روزانہ امدادی سامان کے اوسطاً 600 ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔
تاہم روئٹرز کے مطابق اکتوبر کے آخر میں واشنگٹن نے انسانی امداد کے داخلے کے نئے طریقہ کار پر غور شروع کر دیا تھا۔
-
آذربائیجان لڑائی مکمل طور پر بند ہو جانے کی صورت میں ہی غزہ میں امن فوجی بھیجے گا: ذرائع
آذربائیجان غزہ میں امن دستے بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا جب تک کہ اسرائیل اور حماس ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کی غزہ کے مشرق اور جنوب میں بم باری...خان یونس میں گھر دھماکوں سے تباہ
غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے 29 ویں روز اسرائیل نے غزہ شہر کے مشرق میں فضائی حملے ...
مشرق وسطی -
غزہ میں جنگ بندی خطرے میں، زیرِ زمین محصور جنگجو نیا بحران بن گئے
غزہ میں تمام سرنگیں تباہ کرنے پر اصرار کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدگی ...
مشرق وسطی