سڈنی کے ایک رہائشی احمد الاحمد کے والد محمد فتح الاحمد۔ الاحمد نے 14 دسمبر 2025 کو بونڈائی بیچ پر اجتماعی فائرنگ کے دوران ایک حملہ آور کی بندوق چھین کر اسے غیر مسلح کر دیا تھا۔ (رائٹرز)
'میرا بیٹا ہیرو ہے':والدین کی طرف سےبونڈائی بیچ کےشوٹرکوغیرمسلح کرنےپربہادربیٹےکی تعریف
بونڈائی بیچ پر اجتماعی فائرنگ کے دوران ایک حملہ آور کو غیر مسلح کرنے والے سڈنی کے رہائشی احمد الاحمد کے والدین نے اپنے بیٹے کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک ہیرو قرار دیا۔ اس واقعے کے دوران الاحمد کو گولی لگی اور وہ پیر (15 دسمبر) کو ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
ان کے والد محمد فتح الاحمد نے کہا، "مجھے اپنے بیٹے پر نہایت فخر ہے کیونکہ وہ پورے آسٹریلیا کا ہیرو ہے اور کوئی ایسی نیوز ایجنسی نہیں جس نے اس کا بہادرانہ عمل نہ دکھایا ہو۔"
احمد کی والدہ ملکہ حسن الاحمد نے مزید کہا کہ "اللہ اسے تکلیف نہیں دے گا کیونکہ اس نے اچھا عمل کیا۔"
آسٹریلوی پولیس نے پیر کو کہا کہ ایک 50 سالہ باپ اور اس کے 24 سالہ بیٹے نے اتوار کی سہ پہر بونڈائی بیچ پر یہودیوں کی ایک تقریب میں یہ حملہ کیا جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ تقریباً 30 سالوں میں ملک میں ہونے والی بدترین اجتماعی فائرنگ ہے۔
بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک رہنماؤں نے احمد کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے احمد کو "بہت بہادر شخص" قرار دیا جس نے کئی جانیں بچائیں۔ ریاست نیو ساؤتھ ویلز جہاں سڈنی واقع ہے، کے وزیرِ اعظم کرس منز نے انہیں "ایک حقیقی ہیرو" قرار دیا اور کہا کہ یہ ویڈیو "میری زندگی کا اب تک کا سب سے ناقابلِ یقین منظر تھی۔"
احمد کے لیے ایک GoFundMe مہم ترتیب دی گئی جس سے چند گھنٹوں میں دو لاکھ آسٹریلوی ڈالر جمع ہو گئے۔ ارب پتی ہیج فنڈ مینیجر بِل ایکمین نے 99,999 آسٹریلوی ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا عطیہ دیا اور اپنے ایکس اکاؤنٹ پر فنڈ ریزر کا اشتراک کیا۔