سڈنی پر حملہ پہلے سے متوقع تھا، ہم نے آسٹریلیا کو کئی بار آگاہ کیا:اسرائیلی وزیر خارجہ

آسٹریلوی پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار اور ایک دوسرے کو ہلاک کر دیا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سڈنی میں یہودی تقریب کے دوران فائرنگ کے حادثے کے بعد اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کہا کہ یہ حملہ متوقع تھا۔ساعر نے اتوار کے روز ایک ویڈیو میں کہا:جب دو سال تک آسٹریلیا کی سڑکوں پر خاص طور پر سڈنی میںیہود مخالف مظاہرے جاری رہیں، تو بالآخر جو کچھ ہوا وہ اسی کا نتیجہ تھا۔

ساعر نے مزید کہا : اسرائیل نے اس مدت کے دوران آسٹریلوی حکومت کو بے شمار بار خبردار کیا، لیکن بدقسمتی سے اس نے کافی اقدامات نہیں کیے۔

انھوں نے مزید کہا:اب آسٹریلوی حکومت کو ہوش میں آنا چاہیے۔ادھر اسرائیلی صدر اسحاق ہرٹزوگ نے سڈنی میں ہونے والے واقعے کویہودیوں پر ایک ہولناک حملہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور آسٹریلوی حکام سے یہود دشمنی کے خلاف اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

11 ہلاکتیں

یہ واقعہ اس کے بعد پیش آیا جب سڈنی کے مشہور ساحل بونڈی پر اتوار کے روز یہودی تہوار "ہنوکا" (یعنی روشنیوں کا تہوار) کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں درجنوں افراد زخمی اور ہلاک ہوئے۔

آسٹریلوی پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار اور ایک کو ہلاک ہونے کی اطلاع دی۔ مزید بتایا گیا کہ حملے کے مقام پر موجود 1000 سے زائد افراد میں سے 11 ہلاک اور تقریباً 30 زخمی ہوئے۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا میں 6 دسمبر 2024 کو میلبرن کے علاقے ریبولنیا میں یہودی عبادت گاہ (Adass Israel Synagogue) پر بھی حملہ ہوا تھا، جب تین نقاب پوش افراد نے عبادت گاہ کی کھڑکی توڑ کر اندر داخل ہوئے اور وہاں آگ لگا دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں