گرین لینڈ کو فوجی چھاؤنی بنایا گیا تو ہم جوابی اقدامات اختیار کریں گے : لاؤروف

"اس میں عسکری اور تکنیکی تدابیر شامل ہوں گی".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا ہے کہ اگر مغرب نے گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا تو ماسکو فوجی اقدامات سمیت "جوابی تدابیر" اختیار کرے گا۔

حالیہ ہفتوں میں کئی یورپی ممالک نے اپنی فوجی قوت کے چھوٹے دستے گرین لینڈ بھیجے ہیں۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے قطب شمالی کے دائرے میں واقع اس جزیرے کو امریکہ میں ضم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ واضح رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کے زیر انتظام ایک خود مختار علاقہ ہے۔

لاؤروف نے آج بدھ کے روز روسی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا "یقیناً اگر گرین لینڈ کو فوجی چھاؤنی بنایا گیا اور وہاں روس کے خلاف فوجی صلاحیتیں پیدا کی گئیں، تو ہم مناسب جوابی تدابیر اختیار کریں گے، جن میں فوجی اور تکنیکی اقدامات بھی شامل ہوں گے"۔

گرین لینڈ کی کل آبادی 57 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کے حوالے سے اپنے بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا نیٹو (NATO) کے ساتھ وہاں امریکی موجودگی بڑھانے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل نہ کیا تو روس یا چین اس پر قابض ہو سکتے ہیں۔

لاؤروف نے مزید کہا کہ "امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کو یہ معاملہ آپس میں طے کرنا چاہیے"۔ انہوں نے ڈنمارک پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ گرین لینڈ کے باشندوں کے ساتھ "دوسرے درجے کے شہریوں" جیسا سلوک کر رہا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں