روسی نژاد صحافی کو ’روابط‘ پر نیتن یاہو کی امریکہ جانے والی پرواز سے اتار دیا گیا
مذکورہ صحافی اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کی ایجنسی میں کام کر چکے ہیں
ایک روسی نژاد اسرائیلی صحافی نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں منگل کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے واشنگٹن جانے والے طیارے سے پرواز سے چند لمحے قبل اتار دیا گیا تھا۔ انہیں سکیورٹی ایجنٹس نے کہا کہ ان کے لیے صحافی کے "روابط" کی تصدیق کرنا کی ضروری تھا۔
فری لانس صحافی نِک کولیوہن کو تین روسی ٹیلی ویژن چینلز کے لیے نیتن یاہو کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی کوریج کرنا تھی۔
نیتن یاہو کے امریکہ کے دو حالیہ دوروں کے برعکس صحافیوں کو اس بار وزیرِ اعظم کے جہاز ونگ آف زیون میں سفر کرنے کی اجازت دی گئی۔
لیکن کولیوہن جب تقریباً 10 دیگر صحافیوں کے ساتھ میڈیا سیکشن میں سوار ہوئے اور اپنے بیگ رکھے تو اسرائیل کی شِن بیٹ ڈومیسٹک سکیورٹی سروس کے ایجنٹ ان کے پاس آئے اور جہاز سے اترنے کو کہا، انہوں نے بتایا۔
وزیرِ اعظم کے دفتر نے عبرانی زبان کی ویب سائٹ Yedioth Ahronoth کو ایک بیان میں کہا کہ "سکیورٹی وجوہات کی بناء پر" کولیوہن کو پرواز میں سفر کرنے سے روکا گیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیوں۔
اسی ویب سائٹ کے جاری کردہ ایک بیان میں شِن بیٹ نے کہا، "سروس کو دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم کی سکیورٹی کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ اس فریم ورک کے اندر وزیرِ اعظم کے لیے خطرہ کم کرنے کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں۔"
کولیوہن نے اے ایف پی کو فون پر بتایا، "ایک صحافی سے ایسا سلوک کرنے کا کیا جواز ہے جسے آپ نے پرواز میں مدعو کیا، جو دیگر تمام صحافیوں کے ساتھ سوار ہوا، جس کا سامان پہلے سے ہی رکھا ہوا تھا اور پھر آخری لمحے میں سب کے سامنے آپ اس کی تذلیل کریں اور اسے لات مار کر نکال دیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "اور اس کے بعد آپ اسے ایسے شخص کے طور پر بھی پیش کریں جو وزیرِ اعظم کے لیے خطرہ ہو۔ انہوں نے میرا سامان لیا اور یوں چیک کیا جیسے اس میں کوئی بم تھا۔"
انہوں نے کہا کہ شِن بیٹ کے افسران نے انہیں مطلع کیا کہ انہیں اتار دیا گیا کیونکہ ان کے "روابط" کی تصدیق کرنے کی ضرورت تھی۔
بیالیس سالہ کولیوہن ماسکو میں پیدا ہوئے تھے اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے فوراً بعد سوویت یہودی ہجرت کی ایک بڑی لہر کے دوران نو سال کی عمر میں اسرائیل چلے گئے تھے۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دیں اور بعد میں نیتن یاہو کے دورِ اوّل 2011-2012 میں وزیرِ اعظم کے دفتر میں ایک سرکاری ایجنسی کے لیے کام کیا۔
آج ان کے پاس صرف اسرائیلی شہریت ہے، انہوں نے بتایا۔
وہ بھارت اور برطانیہ کے ٹیلی ویژن چینلز سمیت بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس کے لیے باقاعدگی سے کام کرتے ہیں۔