لبنان میں حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی کے تفصیلی احکامات جاری
لبنانی حکومت نے آج پیر کے روز حزب اللہ کی تمام عسکری اور سکیورٹی سرگرمیوں پر فوری پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔ حزب اللہ نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں آج پیر کے روز اسرائیل پر حملے کا انفرادی فیصلہ کیا تھا جس کے جواب میں اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ کو نشانہ بنایا اور جنوبی لبنان کے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کا انتباہ جاری کیا۔
اس فیصلے کی تفصیلات اور اثرات
ہتھیاروں کی حوالگی
حزب اللہ کو اپنا تمام اسلحہ لبنانی ریاست کے سپرد کرنے کا پابند کیا گیا ہے اور اسلحہ رکھنے کا اختیار صرف قانونی اداروں تک محدود رہے گا۔
صرف سیاسی سرگرمیاں
جماعت کا کام اب صرف سیاسی میدان تک محدود ہوگا تاکہ وہ لبنان کی دیگر جماعتوں کی طرح ایک سول سیاسی پارٹی بن کر کام کر سکے۔
قانونی تحفظ کا خاتمہ
حزب اللہ کی کسی بھی سکیورٹی یا عسکری سرگرمی کو اب غیر قانونی تصور کیا جائے گا جسے لبنانی ریاست کی کوئی تائید حاصل نہیں ہوگی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ریاستی خودمختاری
اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ جنگ اور امن کا فیصلہ صرف لبنانی ریاست کے پاس ہوگا اور سرکاری اداروں کے علاوہ لبنانی سرزمین سے کسی بھی عسکری کارروائی کو مسترد کیا جائے گا۔
لبنانی فوج کا کردار
لبنانی فوج کو اسلحہ ضبط کرنے اور اس فیصلے کے نتیجے میں امن و امان کی کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
یہ فیصلہ اہم علاقائی تبدیلیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس کا مقصد لبنان پر ریاست کی رٹ بحال کرنا اور اسے علاقائی جنگوں کا مرکز بننے سے بچانا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اس قدم کو قومی خودمختاری کے سفر میں ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت حکومت نے ریاست سے باہر تمام عسکری سرگرمیوں بالخصوص حزب اللہ کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ ماہرین اس فیصلے کو سنہ 1989ء کے طائف معاہدے سے جوڑتے ہیں جس نے خانہ جنگی کے خاتمے کی بنیاد رکھی تھی۔ اس معاہدے میں تمام لبنانی اور غیر لبنانی ملیشیاؤں کے خاتمے اور ان کا اسلحہ ریاست کو دینے کا حکم دیا گیا تھا۔
اگرچہ نوے کی دہائی میں بیشتر ملیشیا ختم کر دی گئی تھیں لیکن حزب اللہ کا اسلحہ مزاحمت کے نام پر باقی رہا۔ حالیہ فیصلہ اسی شق پر تاخیر سے عمل درآمد کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ موجودہ حالات اب ریاست کے اندر ریاست کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
قانونی طور پر یہ فیصلہ لبنانی دستور کے عین مطابق ہے جو ملک کے دفاع کی ذمہ داری صرف مسلح افواج کو دیتا ہے۔ سیاسی لحاظ سے اس کا مقصد ان سرگرمیوں سے سرکاری چھتری ہٹانا ہے جو لبنان کو بین الاقوامی پابندیوں یا غیر محسوب فوجی تنازعات کا شکار کر سکتی ہیں۔
عمل درآمد کے چیلنجز
ماہرین کے مطابق قانونی اور سیاسی طاقت کے باوجود اصل امتحان زمینی عمل درآمد ہے۔ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں اور سماجی ڈھانچے کے گہرے تعلق کے باعث کسی بھی اندرونی تصادم سے بچنے کے لیے دانشمندانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ ایک منظم مرکزی ریاست کی طرف منتقلی ممکن ہو سکے۔