لبنانی ملیشیا حزب اللہ کا ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ نے امریکہ اور اسرائیل کے حملے بعد ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ حزب اللہ کی طرف سے جاری کردہ اس بیان میں یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ حملہ آوروں کو ان حملوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

تاہم حزب اللہ کی طرف سے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ بھی اس جنگ کا براہ راست حصہ بنے گی یا نہیں۔ خیال رہے لبنانی حزب اللہ کو ایرانی پاسداران نے 1982 میں قائم کیا تھا۔ تاہم 2024 میں بیروت پر اسرائیلی بمباری کے باعث حزب اللہ بہت کمزور ہو گئی تھی۔ حتی کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور بعض دیگر اہم قائدین بھی اس بمباری میں ہلاک ہو گئے تھے۔

دوسری جانب اسرائیل نے لبنان کو دھمکی دی ہے کہ اگر حزب اللہ نے امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے خلاف خود کو کسی کارروائی میں ملوث کیا تو لبنان کے ایئر پورٹ اور سویلین انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کر دیا جائے گا۔

حزب اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کے حملے ہر ایک کو بلا امتیاز نشانہ بنا رہے ہیں ، اس لیے ہمیں یقین ہے کہ اس کے بدلے میں دشمن اسرائیل کو بھی بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ قبول نہیں کریں گے کہ کوئی بھی لبنان کو اس جنگ میں گھسیٹ سکے۔ نہ ہی کوئی ایسی مہم جوئی برداشت کی جائے گی جو لبنان کی سلامتی اور اتحاد کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں