پابندیاں ختم کرنے سے پہلے ہمیں ایران میں بنیادی تبدیلی دیکھنا ہو گی : یورپی کمیشن

أرسولا فان ڈیئر لائن کے مطابق ایران پر پابندیاں اپنے عوام کے خلاف کریک ڈاؤن کے سبب عائد کی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی کمیشن کی خاتون صدر ارسولا فان ڈیئر لائن نے کہا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنا قبل از وقت ہے۔

انہوں نے آج پیر کے روز برلن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ پابندیاں ختم کرنا قبل از وقت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ پابندیاں ایران کی جانب سے اپنے عوام کو دبانے کی وجہ سے لگائی گئی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پابندیاں ختم کرنے سے پہلے ہمیں ایران میں بنیادی تبدیلی دیکھنا ہو گی۔

اس سے قبل ڈیئر لائن نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ خلیج اور یورپ کی سکیورٹی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے ایران کے بلا جواز حملوں کے مقابلے میں خلیج تعاون کونسل اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ یورپی یونین کی مکمل یکجہتی پر زور دیا۔

تقریباً دو ہفتے قبل برسلز میں خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک بیان میں فان ڈیئر لائن نے کہا تھا کہ حالیہ تبدیلیاں واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار کیوں نہیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے روس یوکرین جنگ میں متعدد خلیجی ممالک کی جانب سے دکھائی گئی یکجہتی اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مرحلہ یورپ اور خلیجی ممالک کے درمیان قریبی شراکت داری کا متقاضی ہے۔

یورپی کمیشن کی سربراہ نے مزید کہا کہ رواں سال کے آخر میں یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان ہونے والی متوقع سربراہی کانفرنس فریقین کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کا بہترین موقع ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں