سینٹ پیٹرزبرگ : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روسی صدر سے ملاقات کریں گے

دمیتری پیسکو کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تبدیلیوں کے پیش نظر یہ ملاقات اہم ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے اعلان کیا ہے کہ روسی صدر ولادی میر بوتین آج پیر کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔ اس سے قبل عراقچی سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ چکے ہیں۔ پیسکوف نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں اس متوقع ملاقات کی اہمیت پر زور دیا۔
پیسکوف کے مطابق روسی صدر سینٹ پیٹرزبرگ میں صدارتی لائبریری جائیں گے، جہاں وہ ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایرانیوں کو اس بارے میں چند روز قبل مطلع کر دیا گیا تھا۔ کریملن کے ترجمان نے مزید کہا کہ پوتین اور عراقچی کے درمیان بات چیت ہو گی اور ایران کے گردونواح اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال جس طرح بدل رہی ہے، اس لحاظ سے اس مکالمے کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

روس میں ایرانی سفیر کاظم جلالی نے 26 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی 27 اپریل کو سرکاری دورے پر روس پہنچیں گے، جہاں وہ مشرق وسطیٰ کے تنازع پر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عراقچی نے آج پیر کے روز کہا کہ ان کے روس کے دورے نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے بعد کے حالات کے لیے ماسکو کے ساتھ ہم آہنگی کا موقع فراہم کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق عراقچی پیر کی صبح سینٹ پیٹرزبرگ پہنچے تھے۔ عراقچی نے یہ بیان ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں دیا جسے ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی "ارنا" نے شائع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے ایک اچھا موقع ہے کہ ہم اپنے روسی دوستوں کے ساتھ ان تبدیلیوں کے بارے میں مشاورت کریں جو اس دوران جنگ کے حوالے سے ہوئی ہیں اور جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ امریکی رویہ اسلام آباد میں طے شدہ مذاکرات میں تاخیر کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مذاکرات، پیش رفت کے باوجود اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے اس کا ذمہ دار "بے جا مطالبات" کو ٹھہرایا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی "ارنا" نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ عراقچی پیر کی علی الصبح اس مقصد کے ساتھ پہنچے کہ وہ روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات اور ان سے بات چیت کریں۔ روسی خبر رساں ایجنسی "تاس" نے اس سے قبل کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف کے حوالے سے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پوتین عراقچی سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں کہ اس وقت ایران میں ذمہ داری کون سنبھال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے مذہبی نظام کے اندر الجھن نے معاہدے تک پہنچنا مشکل بنا دیا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ مشاورت کے دوران ان شرائط کا جائزہ لیا گیا جن کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران ہفتوں کے تنازع کے بعد اپنے حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اور عمان نے، آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہونے کی حیثیت سے، اس آبی گزرگاہ میں محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ماہرین کی سطح پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں