پاکستان نے اپنی سرزمین سے ایران کو فریقِ ثالث کے سامان کی آمدورفت کلیئر کر دی

پاکستان کی ایران، وسطی ایشیا تک رسائی کی فراہمی، ترسیل کے لیے چھے راستے نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کی وزارتِ تجارت نے اتوار کو کہا کہ اسلام آباد نے نئے تجارتی راستے کھول کر ایران کے لیے اپنی سرزمین سے تیسرے ممالک سے سامان درآمد کرنے کا راستہ ہموار کر دیا۔

یہ پیشرفت پاکستان کی علاقائی تجارت کو بڑھانے کی کوششوں کے درمیان ہوئی ہے کیونکہ اسلام آباد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سات بلین ڈالر کے پروگرام کے تحت اپنی معیشت مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انتظامات کے تحت اسلام آباد نے ایران تک سامان کی ترسیل کے لیے گوادر-گبد؛ کراچی/پورٹ قاسم-لیاری-اورماڑہ-پسنی-گبد؛ کراچی/پورٹ قاسم-خضدار-دالبندین-تفتان؛ گوادر-تربت- خوشاب- پنجگور- ناگ- بیسیمہ- خضدار- کوئٹہ/لکپاس- دالبندین-نوکنڈی- تفتان؛ گوادر-لیاری-خضدار-کوئٹہ/لک پاس-دالبندین-نوکنڈی-تفتان؛ اور کراچی/پورٹ قاسم-گوادر-گبد کے راستے نامزد کیے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ تجارت نے اتوار کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا، "اس حکم کا اطلاق کسی تیسرے ملک کی سرزمین سے بھیجے گئے اور پاکستان کی سرزمین کے ذریعے ایران کی حدود میں کسی جگہ جانے والے ٹرانسپورٹ یونٹس میں سامان کی نقل و حمل پر ہو گا۔"

نیز کہا، "اس نوٹیفکیشن کے تحت مال کی نقل و حمل کو [پاکستان] کسٹم ایکٹ کی دفعات کے مطابق منظم کیا جائے گا۔"

نوٹیفکیشن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا ایران جسے بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے، پاکستان کے راستے تیسرے ممالک کو سامان برآمد کر سکتا ہے۔

یہ پیش رفت پاکستان کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ (ڈی جی ٹی ٹی) کے اس اعلان کے چند ہفتوں بعد ہوئی ہے کہ اس نے اپنی پہلی برآمدی کھیپ ازبکستان کو بھیج کر ایران کے راستے ایک نئی تجارتی راہداری فعال کر دی تھی۔

ڈی جی ٹی ٹی کے ایک بیان کے مطابق اس کھیپ میں گائے کا منجمد گوشت تھا اور اسے ٹرانسپورٹ ٹرکوں میں کراچی سے ازبکستان منتقل کیا گیا جس سے پاکستان اور ایران کے درمیان گبد-رمدان سرحدی راہداری عبور کرنے کا ایک نیا راستہ کھل گیا۔

بیان میں کہا گیا، "ایران راہداری ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں کراچی اور گوادر تک رسائی دے گی۔"

پاکستان نے وسطی ایشیا کو برآمدات کے لیے ایران کو ایک متبادل تجارتی راہداری بنایا ہے کیونکہ اس کے افغانستان سے گذرنے والے روایتی زمینی راستوں کو اسلام آباد کابل کشیدگی کی وجہ سے بار بار رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

ڈی جی ٹی ٹی نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا، "بین الاقوامی تجارت اور علاقائی روابط کے بڑھتے ہوئے حجم سے پاکستان اور علاقائی ممالک کو معاشی فائدہ ہو گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں