علامتی تصویری - آئی اسٹاک
امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یاد داشت کے قریب
چین کی مداخلت کی پیشکش ... واشنگٹن کو 48 گھنٹوں میں اہم نکات پر تہران کے جواب کی توقع
امریکی ویب سائٹ "axios" نے آج بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک صفحے پر مشتمل مفاہمت کی یاد داشت تک پہنچنے کے قریب ہیں۔ واشنگٹن کو آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر تہران سے جواب کی توقع ہے، اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا لیکن دونوں ممالک اس وقت معاہدے کے حصول کے لیے اب تک کے قریب ترین مقام پر کھڑے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ بعض کلیدی نکات پر ایران کے رد عمل کا منتظر ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ یورینیم کی افزودگی روک دے، جس کے بدلے میں امریکہ پابندیاں ہٹانے اور ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثے بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کرے گا۔ یاد داشت کے موجودہ مسودے میں جنگ کے خاتمے کا با ضابطہ اعلان اور 30 روز تک گہرے اور مفصل مذاکرات کا آغاز شامل ہے، جس میں افزودگی روکنے کی مدت کم از کم 12 سال مقرر کرنے پر بات چیت جاری ہے۔
ایک امریکی اہل کار نے تصدیق کی ہے کہ اس یاد داشت میں ایک ایسی شق بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت اگر ایران نے افزودگی کی سطح میں اضافہ کیا تو اس کی معطلی کی مدت میں مزید اضافہ کیا جا سکے گا۔ یہ معاہدہ ایک وسیع تر ایٹمی دائرہ کار وضع کرے گا جس کے تحت ایران بین الاقوامی معائنے کے ایک سخت نظام کی پابندی اور ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے کا پختہ عہد کرے گا۔ با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اعلیٰ افزودہ یورینیم ملک سے باہر بھیجنے پر راضی ہو گیا ہے اور اس مواد کو امریکہ منتقل کرنا بھی زیرِ غور راستوں میں شامل ہے۔
دریں اثنا چین نے بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن مذاکرات شروع کرانے میں عملی تعاون کی پیشکش کی ہے۔ چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کہا کہ ان کا ملک مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے اپنا بڑا اور فعال کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس موقع پر واضح کیا کہ ایران اپنی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور وہ صرف ایک "عادلانہ اور جامع معاہدہ" ہی قبول کرے گا۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تمام عمل میں "بڑی پیش رفت" ہونے کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نگرانی کے لیے جاری امریکی فوجی آپریشن "پروجیکٹ فریڈم" کو مختصر مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کی راہ ہموار ہو سکے۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے بعد سے یہ تزویراتی آبنائے عملی طور پر بند ہے، جس نے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ڈونلڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ایرانی فوجی صلاحیتیں حالیہ حملوں کے نتیجے میں کافی حد تک کمزور ہو چکی ہیں اور تہران اب عوامی سطح پر دھمکیوں کے باوجود حقیقی معنوں میں امن کا خواہاں ہے۔ یہ تنازع نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ پر شدید سیاسی دباؤ کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں براہِ راست ووٹرز کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان امریکی و اسرائیلی حملوں کا بنیادی مقصد حماس تنظیم اور لبنانی گروپ حزب اللہ کی حمایت سمیت ایرانی ایٹمی اور میزائل پروگراموں سے پیدا ہونے والے خطرات کا خاتمہ تھا، جبکہ ایران ان حملوں کو اپنی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔