امریکی اور ایرانی جھنڈا

العربیہ ایکسکلوسیو

"العربیہ" نے امریکہ و ایران کی ممکنہ حتمی مفاہمتی یادداشت کا ابتدائی مسودہ حاصل کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ اور ایران نے بالآخر جنگی خاتمے کی طرف بڑھنے کے لیے پچھلے ہفتے ایک حتمی مفاہمتی یادداشت کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ 'العربیہ' نے اس مسودے کا متن حاصل کر لیا ہے۔

· جس میں سب سے پہلا نکتہ جاری جنگ بندی میں دو ماہ کی قابل ترمیم و اضافہ توسیع پر اصولی اتفاق ہے۔ فریقین کے اتفاق رائے سے اس توسیعی مدت کو ضرورت کے مطابق بڑھانے یا تبدیل کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ تاہم اس دوماہ کی توسیع کو ساٹھ دن کی توسیع کانام دیا گیا ہے۔ 'العربیہ' نے طے کیے گئے اس مفاہمتی فریم ورک کا ابتدائی مسودہ اپنے قارئین کے لیے حاصل کر لیا ہے۔

· مفاہمتی یادداشت کے دوسرے نکتے میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ سے عالمی تجارتی نقل و حمل کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تیل بردار ٹینکر اور تجارتی بغیر کسی اضافی فیس کے گزر سکیں گے۔ تاہم اس سلسلے میں ایران کو تکنیکی اور سلامتی تحفظ کے مقاصد کے لیے کچھ اقدامات کرنا ہوں گے جو محفوظ جہاز رانی کے لیے ضروری ہیں۔ ان میں آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنا بھی شامل ہے۔ آبی راہداری سے نقل و حمل کے لیےرکاوٹیں ہٹائی جائیں گی جیسا کہ اس سلسلے میں اتفاق کیا جائے گا۔

· تیسرے مفاہمتی نکتے کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنا تیل فروخت کرنے اور برآمد کرنے کا حق ہوگا۔ اس معاملے کا تعلق فریقین کے درمیان عبوری مفاہمت کے لیے اتفاق رائے سے ہوگا۔

· چوتھا نکتہ ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جوہری پروگرام کے بارے میں اس کشیدگی کی کمی کے دورانیے میں مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔ تاکہ ایرانی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں ایک پائیدار افہام و تفہیم کی طرف بڑھا جا سکے۔ اس سلسلے میں مانیٹرنگ کا ایک میکانزم وضع کیا جائے گا ۔ یہ میکانزم دو طرفہ تسلیم شدہ نکات پر عمل کی نگرانی کرے گا۔

· ان کے بدلے میں امریکہ کی طرف سے ایران پر عائد کردہ پابندیاں کو نرم کرے گا، ایرانی بندر گاہوں کو اپنی ملکی برآمدات بشمول تیل اور متعین تجارتی و معاشی سرگرمیوں کی اجازت ہو گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی تیل سے متعلق بعض دیگر پابندیوں کو بھی مرحلہ وار بنیادوں پر معطل یا نرم کرنے پر غور کیا جائے گا۔

· اس مفاہمتی یادداشت میں یہ نکتہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ تمام فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی ضرورت اور تمام علاقائی محاذوں بشمول لبنانی محاذ پر کشیدگی کم کرنے کی غرض سے توجہ کی جائے گی، اس کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر کشیدگی میں کمی کے لیے کام کیا جائے گا۔

· 30 دنوں کی مدت میں آبنائے ہرمز سے آزادانہ جہاز رانی کے لیے تکنیکی اور نقل و حمل سے متعلق کے عملی اقدامات کا نفاذ کیا جائے گا اور جہاز رانی پر موجود قدغنیں ہٹائی جائیں گی۔

· 60 دنوں کی مدت میں ایرانی جوہری پروگرام کے لیے بات چیت کا ابتدائی ٹائم فریم طے کیا جائے گا۔

· اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے پہلے مرحلے میں ایران کی منجمد کیے گئے اثاثوں اور فنڈز کا ایک حصہ بحال کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک مالیاتی میکانزم پر دونوں کے اتفاق کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔

· دونوں فریق بقیہ ایرانی منجمد اثاثوں اور فنڈز کی بحالی کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے۔ تاکہ ایک میکانزم اور ٹائم فریم سامنے آ سکے۔ یہ مذاکراتی عمل کے مطابق کیا جائے گا۔

· جاری امور میں یہ بھی کیا جائے گا کہ 30 دنوں کے اندر اندر آبنائے ہرمز سے ٹریفک کے گزرنے اور جہازوں کی تعداد کو کشیدگی سے پہلےوالی سطح پر لایا جائے گا۔ یہ مدت 30 دنوں سے بڑھنے نہ دی جائے گی، اسلامی جمہوریہ ایران انے اس دوران بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز کے بارے میں اپنی قومی خود مختاری کے حقوق کو عمل میں لانے کے لیے پر عزم ہے۔ اس سلسلے میں تفصیلات تکنیکی مذاکرات میں زیر بحث آئیں گی، کہ اس نکتے پر فریقین کے درمیان ابھی بحث و تمحیص جاری ہے۔

· دونوں فریق بتدریج اس معاملے میں بھی کام کریں گی کہ بحری ناکہ بندی کا خاتمہ 30 دنوں میں ہو سکے۔ اس ناطے پابندیاں ہٹائی جائیں گی ، باہمی کمٹمنٹس پوری کی جائیں گی اور تصدیقی میکانزم پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

· دونوں فریق خطے کی سلامتی اور فوجی انتظمات کے بندوبست کے لیے ایران کے گردو پیش میں امریکی فوجی موجودگی پر بھی بحث کریں گے۔ یہ گفتگو جاری مذاکراتی فریم ورک کے اندر ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ نکتہ ابھی دونوں فریقوں کے درمیان نزاع کا باعث ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں