ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایک ایسے فریم ورک کے متن کی تیاری میں مصروف ہے جو امریکہ کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیر بحث لائے جائیں گے۔
انہوں نے اس امر کا اظہار اقوام متحدہ کے جوہری واچ ڈاگ کے ساتھ ایک فون کال پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
جوہری واچ ڈاگ کے سربراہ رافیل گروسی پر عراقچی نے زور دے کر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس ابتدائی مسودہ پر کام کر رہا ہے جو مستقبل کے لیے ایک لائحہ عمل طے کرنے میں مدد دے گا۔
یاد رہے ایک روز قبل کہا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات اومان میں ہونے والے مذاکرات سے بھی زیادہ مفید رہے ہیں اور اب امریکہ و ایران اپنا اپنا مسودہ تیار کریں گے جو بعد ازاں آنے والے مذاکرات میں پیش کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کا ذریعہ بنیں گے۔
وزیر خارجہ ایران کا یہ فونک رابطہ جنیوا مذاکرات کے اگلے روز ہوا ہے۔ انہوں نے منگل کے روز کہا تھا کہ دونوں ملک رہنمائی کے اصولوں پر متفق ہوگئے ہیں تاکہ تصادم و جنگ سے بچا جا سکے۔ تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے کہا ایران نے ابھی امریکہ کی تمام ریڈ لائنز کو تسلیم نہیں کیا۔
بدھ کے روز امریکہ کے وزیر برائے توانائی کرس رائٹ نے انتباہ کیا تھا اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو امریکہ کے لیے جس طرح بھی ممکن ہوا اسے روکے گا۔
ویانا میں جوہری واچ ڈاگ ادارے میں مستقل نمائندے رضا نجفی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کی 'آئی اے ای اے' کے سربراہ رافیل گروسی سے ایک مشترکہ ملاقات ہوئی ہے۔ جس میں چین اور روس کے سفیر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں مستقبل کے سیشن کے لیے مختلف نکات پر بات کی گئی۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' کے ذریعے سامنے آیا ہے۔
یاد رہے کہ پچھلے سال ماہ جون میں اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے حملوں کے بعد ایران نے بین الاقوامی جوہری ادارے کے ساتھ تعاون میں تعطل پیدا کر دیا تھا۔ تاہم 12 روزہ جنگ کے بعد اب نئے سرے سے روابط بحال ہونا شروع ہوچکے ہیں۔
حالیہ دنوں میں امریکہ و ایران کے مذاکراتی عمل میں بھی پیش رفت کی علامات ہیں تاکہ جنگی خطرے کو کم سے کم کیا جا سکے۔