ایران کے ساتھ معاہدے کا متن شائع کرنا چاہتے تھے مگر پاکستان نے روک دیا:امریکی نائب صدر
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ انتظامیہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یاداشت کے متن کو جلد از جلد یعنی ممکنہ طور پر آج بدھ کے روز ہی جاری کرنا چاہتی ہے، مگر پاکستان نے اس دستاویز کی اشاعت کو جمعہ تک مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جے ڈی وینس نے ’سی بی ایس‘ نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ مکمل متن کے حوالے سے پاکستانی حکام نے جنہوں نے ایران کے ساتھ اس معاہدے میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا ہے، ہم سے گزارش کی ہے کہ ابھی اس کا مکمل متن جاری نہ کیا جائے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ دستاویز جمعہ تک ہر صورت میں شائع کر دی جائے گی۔ وینس نے مزید کہا کہ درحقیقت ہم انہیں آج ہی اس کی اشاعت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ہم امریکی عوام کو اس معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
نائب صدر امریکہ نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کیا ہے جو امریکہ کے مفادات کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہم ایران کے ساتھ مفاہمت نامے کے بارے میں غلط بیانی اور تحریف شدہ معلومات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
مفاہمتی یاداشت کی شقوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارا معاہدہ آبنائے ہرمز کو کھول دے گا اور ہم فی الحال تیل کی ترسیل میں بحالی دیکھ رہے ہیں۔ نائب صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ یہ مفاہمت اس بات کی ضمانت دے گی کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔