امریکا نے ایران کے خلاف جنگ میں Grok AI ٹول کا استعمال کیا : میمو

ایکس سے منسلک اس ٹول کو امریکی عسکری ہدف بندی کے پروگرام "پروجیکٹ ماوِن" کے دائرہ کار میں استعمال کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے ہاتھ لگنے والی ایک قانونی دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکی حکومت نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران ایران پر حملوں کے لیے ایلون مسک کی ملکیت "ایکس" پلیٹ فارم کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پروگرام GROK (گروک) کا استعمال کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق15 جون کو تیار کردہ اس دستاویز میں ان گیس ٹربائنوں کا دفاع کیا گیا ہے جو مسک کی کمپنی "ایکس اے آئی" کے ایک بڑے ڈیٹا سینٹر میں استعمال ہو رہی ہیں، جس کے خلاف ماحولی مقدمہ چل رہا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف نے دستاویز میں موقف اختیار کیا ہے کہ یہ مقدمہ امریکی قومی سلامتی، معیشت اور توانائی کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے اے آئی کے میدان میں ہونے والی اس جدت کی توانائی کی فراہمی منقطع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو محکمہ جنگ کے فوجی آپریشنز کو سپورٹ کرتی ہے۔

اس دلیل کی حمایت میں وفاقی استغاثہ نے پینٹاگان کے اے آئی کے عہدے دار کیمرون اسٹینلے کی گواہی پیش کی۔ اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ گروک کو پروجیکٹ ماوِن کے دائرہ کار میں استعمال کیا جا رہا ہے، جو امریکی فوج کا اے آئی سے لیس ہدف بندی کا پروگرام ہے۔

یہ پروجیکٹ ابتدا میں اینتھروپک کمپنی کے تیار کردہ ماڈل کلاؤڈ پر انحصار کرتا تھا۔

اسٹینلے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ماوِن اسمارٹ سسٹمز نے امریکی افواج کو اس جنگ کے دوران، جسے واشنگٹن نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا، 96 گھنٹوں کے اندر دو ہزار سے زائد اہداف پر دو ہزار سے زیادہ گولہ بارود داغنے کے قابل بنایا۔

اسٹینلے نے گروک کے حکومتی ماڈل سے حاصل ہونے والی آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری کی تعریف کی۔

ایک شہری حقوق کی تنظیم نے ایکس اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ بغیر لائسنس کے درجنوں ٹربائن چلا رہی ہے اور صاف ہوا کے قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

امریکی حکومت نے فروری میں اینتھروپک کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیے تھے، کیونکہ کمپنی نے اپنے ٹولز کو مکمل طور پر خودکار حملوں یا امریکیوں کی اجتماعی نگرانی میں استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس کے بعد امریکی محکمہ دفاع نے گوگل، اوپن اے آئی اور ایکس اے آئی جیسی مدمقابل کمپنیوں سے رجوع کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں