ایرانی جیل میں قید برطانویوں کی بھوک ہڑتال، اقوامِ متحدہ کے ماہرین کو شدید تشویش

تیس دن بغیر کھانا کھائے ایک طبی ایمرجنسی بن جاتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بدھ کے روز ایران میں جاسوسی کے جرم میں سزا پانے والے دو برطانویوں کے لیے شدید تشویش کا اظہار کیا جو اب جیل میں بھوک ہڑتال پر ہیں۔

کریگ اور لنڈسے فورمین کو فروری میں جاسوسی کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس سے وہ انکار کرتے ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ نے کہا کہ اس مہینے میں ان کے علم میں لائے بغیر ایک ناکام اپیل کی سماعت کی گئی تھی اور انہیں اس عمل کے بارے میں بہت کم معلومات دی گئیں۔

انسانی حقوق کے دو آزاد ماہرین اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے ایلس جِل ایڈورڈز اور مائی ساتو نے کہا کہ لنڈسے فورمین 30 دن سے زیادہ اور ان کے شوہر کریگ 20 سے زائد دنوں سے کھانے سے انکار کر رہے تھے۔

ماہرین نے ایک بیان میں کہا، "30 دن تک بغیر کھانا کھائے یہ ایک طبی ایمرجنسی کا معاملہ ہے۔"

نیز کہا، "لنڈسے اور کریگ فورمین کو جیل میں نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں بظاہر غلط طریقے سے حراست میں لیا گیا، انتہائی قابلِ اعتراض بنیادوں پر مقدمہ چلایا گیا اور ایسی عدالتی کارروائیوں کے بعد سزا سنائی گئی ہے جو بنیادی منصفانہ ٹرائل کی ضمانت پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہیں۔"

ماہرین نے اپریل میں ایرانی حکام کو خط لکھ کر اس پر احتجاج کیا تھا جو ان کے نزدیک سیاسی مقاصد کے لیے غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لینے کا عمل ہے۔

جنیوا میں ایرانی مشن نے ان الزامات پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

برطانیہ نے فورمین جوڑے کی سزا کو "مکمل طور پر غیر منصفانہ" قرار دیا اور ان کی رہائی کے لیے مسلسل دباؤ ڈالنے کا عہد کیا ہے۔ خاندان نے حکومت کے جواب پر تنقید کی تاہم یہ کہا ہے کہ جوڑے کو خطے میں تنازعات کے دوران "انسانی ڈھال" کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں