سارہ نیتن یاہو اپنے شوہر کے سامنے چراغ پا (وائرل وڈیو)

سارہ نیتن یاہو کا اپنے شوہر پر چلانا... وڈیو نے اسرائیل میں ہلچل مچا دی

نیتن یاہو کو شرمندگی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیت المقدس میں بدھ کی شام "مکابیہ" کھیلوں کے افتتاحی تقریب کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کا غصے کا اظہار اسرائیل میں وسیع پیمانے پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس موقع پر انہیں وی آئی پی لاؤنج کے اندر اپنے شوہر اور ان کے کچھ رفقاء سے غصے میں بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

افتتاحی تقریب کے باقاعدہ آغاز سے قبل سارہ نے وی آئی پی لاؤنج میں داخل ہونے کے طریقے پر شکایت کی اور اپنے شوہر کو، جنہیں کچھ دوست "بیبی" کہہ کر پکارتے ہیں، اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" کے مطابق سارہ کا کہنا تھا کہ "تمہاری وجہ سے میں نے یہاں لوگوں سے جھگڑا کیا، تم نے مجھے لوگوں کے ساتھ الجھنے کے لیے چھوڑ دیا"۔ انہوں نے وزیراعظم کے مشیروں سے بھی مخاطب ہو کر مطالبہ کیا کہ ان کا خیال رکھا جائے اور پوچھا کہ "مجھے اندر آنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟"... ذرائع کے مطابق یہ بحث حاضرین کے سامنے کئی منٹ تک جاری رہی۔

اسرائیلی چینل 13 کے نامہ نگار میخائل شیمش کے مطابق وزیراعظم کی اہلیہ نے یہ بھی کہا کہ منظم طریقے سے لاؤنج میں داخل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں دھکا دیا گیا اور کچلا گیا، جس کی وجہ سے انہیں غصہ آیا۔

دوسری جانب اخبار "معاریف" نے اس واقعے کو ایک شرم ناک واقعہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ سارہ نیتن یاہو غصے میں آ گئیں اور وہ بڑی تعداد میں حاضرین کے سامنے اپنے شوہر اور عملے کے ارکان پر چلاتی رہیں، جبکہ عینی شاہدین کے حوالے سے نقل کیا گیا کہ یہ واقعہ کئی منٹ تک جاری رہا۔

اس واقعے نے سوشل میڈیا پر تبصروں کا ایک طوفان کھڑا کر دیا، جہاں بہت سے لوگوں نے وزیراعظم کی اہلیہ پر تنقید کرنے کے لیے اس موقع کا فائدہ اٹھایا۔

تقریب کے دوران سارہ کے رویے پر طنزیہ تبصرے اور تنقید کی گئی۔

"مکابیہ" کھیلوں کا ایونٹ جو ہر چار سال بعد منعقد ہوتا ہے، یہودی کھلاڑیوں کے لیے مختص سب سے بڑا بین الاقوامی کھیلوں کا ایونٹ ہے۔ اس کا مقصد دنیا بھر سے شرکاء کو اکٹھا کرنا ہے۔ موجودہ ایڈیشن کی افتتاحی تقریب بیت المقدس کے "ٹیڈی" اسٹیڈیم میں نیتن یاہو کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔

ماکروں کی اہلیہ کا ہنگامہ


یہ بات قابل ذکر ہے کہ سارہ نیتن یاہو کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازع نے دوبارہ اس کردار پر روشنی ڈالی ہے جو کچھ رہنماؤں کی اہلیہ کے عوامی رویے تنازعات کو جنم دینے میں ادا کر سکتے ہیں۔ اکثر ذاتی موقف یا معمولی نوک جھونک رائے عامہ کے ایسے مسائل میں بدل جاتے ہیں جنہوں نے خود سرکاری تقریب کو ہی گہن لگا دیا اور میڈیا کی توجہ حاصل کر لی، جو رہنماؤں کے لیے سیاسی اور میڈیا کی سطح پر شرمندگی کا باعث بنے۔

شاید ان واقعات میں سب سے نمایاں واقعہ فرانس کا ہے، جب فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور ان کی اہلیہ بریگزٹ کی ایک وڈیو نے وسیع ہلچل مچا دی تھی، جس میں انہیں ویتنام پہنچنے کے بعد جہاز کا دروازہ کھلتے ہی اپنے شوہر کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اسی طرح فوٹیج میں انہیں جہاز کی سیڑھیاں اترتے وقت شوہر (ماکروں) کا بازو پکڑنے سے انکار کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا۔

اس وقت یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی اور جو کچھ ہوا اس کی نوعیت کے بارے میں قیاس آرائیوں اور تبصروں کا سیلاب آ گیا۔ بعد ازاں ماکروں نے سامنے آ کر تصدیق کی کہ اس شاٹ کی غلط تشریح کی گئی ہے... اور اسے اپنے اور اپنی اہلیہ کے درمیان محض ایک مذاق قرار دیا۔

ایلیسی محل نے اس بات پر زور دیا کہ اس واقعے کے ان کے ذاتی تعلقات کے دائرہ کار سے باہر کوئی معنی نہیں ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں