امریکہ کا القدس میں اپنے مستقل سفارت خانے کی تعمیر کے لیے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ

امریکہ یروشلم کو یہودی عوام کا ابدی، اصل اور مستقل دارالحکومت تسلیم کرتا اور اس پر عملی قدم بھی اٹھائے گا: امریکی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا مستقل سفارت خانہ تعمیر کرنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کردیے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی اتحاد کی عکاسی کرتا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ میں دستخطوں کی تقریب کے دوران اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ امریکہ نہ صرف یروشلم کو یہودی عوام کا ابدی، اصل اور مستقل دارالحکومت تسلیم کرتا ہے، بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں عملی قدم اٹھائے گا۔

مائیک ہکابی نے مزید کہا کہ ہم ایک نیا اور مستقل سفارت خانہ کمپاؤنڈ قائم کر کے یروشلم کی سرزمین پر اپنا پرچم یعنی امریکی پرچم لہرائیں گے جو یہاں اسرائیل میں ہماری سفارتی سرگرمیوں کا ہیڈ کوارٹر ہو گا۔

ایکس پلیٹ فارم پر ایک الگ پوسٹ میں مائیک ہکابی نے کہا کہ جس طرح امریکہ اسرائیل کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، اسی طرح اسرائیل بھی امریکہ اور خطے میں اس کے مفادات کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کہا کہ یروشلم میں مستقل امریکی سفارت خانے کی تعمیر کا معاہدہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قریبی اتحاد کی تصدیق کرتا ہے۔ انہوں نے دستخطوں کی تقریب کے دوران مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے 2017 میں سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے تاریخی فیصلے نے معاملات کو درست سمت میں موڑ دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ آج، سفارت خانے کا مستقل کمپاؤنڈ بنانے کے آغاز کے معاہدے کے ساتھ، وہ فیصلہ مستحکم اور زیادہ پائیدار ہو گیا ہے۔ امریکی مستقل سفارت خانہ جنوبی یروشلم میں ایلنبی کمپاؤنڈ میں تعمیر کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2017 میں، اپنے پہلے صدارتی دور کے دوران، یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا اور اپنے ملک کے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ٹرمپ کا 2017 کا فیصلہ دہائیوں پرانی امریکی پالیسی سے انحراف تھا جس کے تحت یہ مانا جاتا تھا کہ یروشلم کی حتمی حیثیت کا فیصلہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔

یروشلم یا مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت طویل عرصے سے دہائیوں پر محیط فلسطینی اسرائیلی تنازع کا ایک بنیادی محور رہی ہے۔ 1967 کی جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے مشرقی القدس پر قبضہ کرنے کے بعد اسرائیل نے مغربی اور مشرقی القدس پر مشتمل اس شہر کو اپنا متحدہ دارالحکومت قرار دے دیا تھا، یہ ایک ایسا اعلان ہے جسے بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب فلسطینی مشرقی القدس کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ان متصادم مطالبات کی وجہ سے زیادہ تر ملکوں نے اپنے سفارت خانے تل ابیب میں برقرار رکھے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ القدس (یروشلم) کی حیثیت کا فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق امن مذاکرات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ سفارت خانے کی عمارت کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف کئی ماہ تک جاری رہنے والی جنگ لڑی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوششوں پر اختلافات کے باعث تناؤ ہے تاہم اس تناؤ کے دور میں بھی یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں