کویت میں 28 فروری 2026 کو کویت سٹی کا ایک فضائی منظر۔ (رائٹرز/فائل)
پاکستان اور کویت کا توسیعی دفاعی معاہدے پر تبادلۂ خیال: ذرائع
مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں، ٹھوس نتائج کے لیے پاکستان کو محتاط رہنا ہو گا
مذاکرات سے واقفیت رکھنے والے پانچ ذرائع کے مطابق پاکستان توانائی کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے بدلے کویت کے ساتھ ایک توسیعی دفاعی معاہدے پر مذاکرات کر رہا ہے۔
تمام ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے یہ ہنوز پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
رائٹرز نے جمعرات کو بتایا کہ اسلام آباد میں اس بات کے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ سعودی عرب سے اس کا باہمی دفاعی معاہدہ جس پر گذشتہ سال دستخط ہوئے تھے، پاکستان کو امریکہ ایران جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ایران سے منسلک حوثی تحریک کے پیر کو سعودی عرب پر حملے کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان نے ایران سے کہا ہے کہ وہ مملکت پر حملوں کو اپنے اوپر حملوں کے مترادف سمجھے گا۔
کویت جو اس سال ایران کی جانب سے شدید حملوں کی زد میں آیا ہے، کے ساتھ کسی بھی دفاعی معاہدے سے امریکہ اور ایران کے درمیان مستقبل کی ثالثی میں پاکستان کے کردار پر بھی سوالات اٹھیں گے۔
کویت نے 2023 سے تربیت اور مشترکہ مشقوں کے لیے پاکستان کے ساتھ زیادہ محدود دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ اب وہ اسلام آباد سے طاقت کے ایسے مظاہرے کا خواہاں ہے جو سعودی عرب اور پاکستان کے معاہدے سے ملتا جلتا ہو گا جس میں "زمین پر ہزاروں پاکستانی فوجی، لڑاکا طیارے، ڈرون، فضائی دفاعی نظام اور دیگر دفاعی تنصیبات شامل ہوں،" ایک پاکستانی سرکاری اہلکار نے کہا۔
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پاکستان اس حد تک جانے کے لیے تیار ہے کیونکہ سعودی عرب سے اس کا معاہدہ ریاض کے ساتھ عشروں پرانے قریبی اتحاد کا نتیجہ تھا۔
مذاکرات سے واقف ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار نے کہا، "کویت کی خواہشات کی فہرست میں سب کچھ شامل ہے۔ لیکن میں ایک بات واضح کر دوں: ہم اس مرحلے پر لڑاکا فوجیوں کی تعیناتی پر غور نہیں کر رہے اور نہیں کر سکتے۔"
شرقِ اوسط کے ایک ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی کہ کویت پاکستان سے گفتگو کر رہا ہے بشمول دفاعی خریداری کے بارے میں لیکن انہوں نے کہا، "یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ایک دفاعی معاہدہ ہو گا۔"
رائٹرز نے چار پاکستانی ذرائع اور شرقِ اوسط کے ایک ذریعے سے بات کی لیکن ان میں سے کوئی بھی آن ریکارڈ بات کرنے کا مجاز نہیں تھا۔
پاکستان کے ملٹری میڈیا ونگ اور کویت کی وزارتِ اطلاعات نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
دفاعی متبادلات کی تلاش
پاکستان اور خلیجی ریاستوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران نئے علاقائی دفاعی معاہدوں کے فوائد دیکھے ہیں۔
پاکستان کے پاس ایک بڑی فوج ہے اور اپنے لڑاکا طیارے تیار کرتا ہے۔ اس سے یہ خلیجی ریاستوں کے درمیان امریکی تحفظ کا ایک ممکنہ متبادل یا اضافہ بن گیا ہے کیونکہ وہ زیادہ محتاط ہو گئے ہیں کہ ایک اتحادی کے طور پر امریکہ کتنا قابلِ انحصار ہے۔
کویت کی سکیورٹی پلاننگ سے واقف شرقِ اوسط کے ایک ذریعے نے کہا، کویت میں پاکستان کو ایک محفوظ انتخاب سمجھا جاتا ہے۔
"وہ پہلے ہی سعودیوں کے ساتھ ہیں، ان کی دفاعی ترقی کی ایک طویل تاریخ ہے، وہ مسلمان سُنی ہیں، ان کے امریکیوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اس لیے یہ بعض دیگر ممکنات کی طرح حساس نہیں ہے،" ذریعے نے کہا۔
ترکی، پاکستان اور سعودی عرب باہمی دفاعی معاہدے کا ایک مسودہ تیار کر رہے ہیں جو اسلام آباد کے سعودی عرب سے معاہدے سے الگ ہے۔
دریں اثناء ایک ذریعہ نے کہا، بحرین بھی اسی طرح کے معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے اور تین ذرائع نے بتایا ہے کہ اردن نے ہتھیاروں اور تربیتی معاہدے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
دفاعی تعاون کے عوض تیل
پاکستان نے ہمسایہ ممالک سے دفاعی معاہدوں کو ملک میں فوری ضرورت کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ایک طریقے کے طور پر دیکھا ہے۔
کویت سے ممکنہ معاہدے کے تحت اسلام آباد توانائی کے تحفظ میں تعاون چاہتا ہے جو تیل اور ایندھن کے ذخائر بڑھانے کے لیے پاکستان کی وزارتِ توانائی کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔
معاملات سے باخبر ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا ہے کہ کویت پاکستان کے ساتھ ایندھن کی ایک بانڈڈ ذخیرہ گاہ کا متلاشی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ڈیزل کی رسد کے موجودہ حکومت سے حکومت معاہدے پر استوار ہو گا۔
دو ذرائع نے بتایا کہ ایک بڑے دفاعی معاہدے کی جستجو میں ایسی پیشکشیں پاکستان کی قیادت کے لیے ہنوز کافی پرکشش ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کشیدگی کم ہونے کے بعد مذاکرات میں تیزی آنے کی امید ہو گی۔
تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ خواہش مندانہ خام خیالی سکتی ہے۔
سڈنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے جنوبی ایشیا کے محقق محمد فیصل نے کہا، "پاکستان کو حد سے زیادہ وعدوں کے خطرات سے آگاہ رہنا چاہیے۔"