پاکستان کا "اسلام آباد" یاد داشت کی پاسداری اور مزید کشیدگی سے گریز پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اسلام آباد مفاہمت کی یاد داشت میں طے شدہ جنگ بندی کے وعدوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بنے۔

یہ بات انہوں نے آج ہفتے کے روز کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران کہی۔ اس دوران دونوں شخصیات نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

بات چیت کے دوران کویتی وزیر خارجہ نے کویتی سرزمین کو نشانہ بنانے والے حملوں کے تسلسل پر اپنی حکومت کی شدید تشویش کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ تمام فریق انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔
دوسری جانب اسحاق ڈار نے کشیدگی میں کمی کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے اور علاقائی امن و سلامتی کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایران نے ہفتے کے وز واشنگٹن پر اپنے وعدوں کی خلاف ورزی اور "جارحانہ اقدامات" کا الزام لگایا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ تہران اس وقت مذاکرات میں مصروف تھا جب واشنگٹن نے ایسے فوجی اقدامات کیے جو یاد داشت کی براہ راست خلاف ورزی ہیں۔
ایرانی فیصلہ پاکستانی ثالثی سے ہونے والی ان مفاہمتوں کے لیے ایک نئی ضرب ہے جن کا مقصد عسکری کارروائیوں کو روکنا اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان وسیع تر تصفیے کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ یہ یاد داشت کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے منسلک تھی، لیکن اس کے نفاذ پر اختلافات شروع ہی سے معاہدے کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔

تہران کا یہ اعلان ایران کے اندر امریکی حملوں کے دائرہ کار میں اضافے اور فریقین کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے سیاسی رابطوں کی بحالی کے امکانات تیزی سے کم ہو گئے ہیں۔

ادھر کویت نے آج ہفتے کے روز ایران پر الزام لگایا کہ وہ شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے "منظم جارحانہ رویہ" اپنا رہا ہے۔ کویت میں آئل تنصیبات، بجلی و پانی کے اسٹیشنوں، اور فوجی و سکیورٹی مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے ہوئے جن کے نتیجے میں جانی نقصان، مالی خسارے اور آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔

خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے کویت، بحرین اور اردن پر ہونے والے ایرانی حملوں کو "جنگی جرائم" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس پر بین الاقوامی احتساب ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں