جیسا کہ پاکستان کے سرحدی صوبہ خیبرپختونخوا میں پولیس نے اس ہفتے افغان آبادیوں میں رہائش پذیر غیر دستاویزی افغانوں کے خلاف "وسیع کریک ڈاؤن" شروع کر دیا ہے تو بعض لوگوں نے واپسی کے لیے جلدی جلدی اپنا سامان باندھا اور چلے گئے جبکہ دیگر گھروں میں چھپ گئے۔
کمیونٹی کے اراکین اور حکام نے بتایا کہ شمالی صوبے میں حکام نے حکومت کے وسیع تر دباؤ کے تحت مکانات مسمار کر دیے اور سڑک کنارے شناختی دستاویزات چیک کیں اور افغانوں سے کہا کہ وہ وہاں سے چلے جائیں۔
صوبائی دارالحکومت پشاور سے کچھ فاصلے پر واقع متنی گاؤں کے رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکام نے جولائی میں افغان آبادی کے 200 میں سے کئی مکانات کو مسمار کر دیا۔
پچاس سالہ نجیب رحمٰن نے بتایا کہ انہوں نے سب سے پہلے اپنے گھر سے والد کی ادویات اور بچوں کے سکول سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا، "لیکن افسران نے ہماری بات نہیں سنی اور صرف اتنا کہا: گھر کو گرا دو۔" بستی کی باقیات میں کئی گھروں کی دیواریں اب ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔
اردگرد کے نوجوانوں نے واپسی کے لیے گھر کا سامان بشمول بستر اور سولر پینل ٹرکوں میں لاد دیے۔
جون میں پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے پورے ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 10 جولائی سے بغیر ویزے کے افغان شہریوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
وزارت نے مکانات کے انہدام پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
پشاور میں ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، "غیر دستاویزی افغان شہریوں کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن 10 جولائی کو شروع ہوا اور اب بھی جاری ہے۔"
اہلکار نے کہا، "وفاقی حکومت کے واضح ہدایات جاری کرنے سے پہلے ہی پولیس نے صوبے کے تمام حصوں میں افغان شہریوں کی نقشہ سازی مکمل کر لی تھی۔"
اگرچہ 2023 میں سکیورٹی بنیادوں پر وطن واپسی مہم شروع ہونے کے بعد سے لاکھوں افغان پاکستان سے واپس جا چکے ہیں لیکن اس سے قبل زیادہ تر کوششیں بڑے شہر کراچی اور دارالحکومت اسلام آباد پر مرکوز تھیں۔
خیبر پختونخواہ کی تقریباً 40 ملین آبادی کے افغانستان سے گہرے ثقافتی، لسانی اور تاریخی تعلقات ہیں اور کئی خاندان سرحد کے دونوں طرف پھیلے ہوئے ہیں۔
پولیس اور حکام نے بتایا کہ انہوں نے افغان باشندوں کو 10 جولائی سے پہلے ملک چھوڑ دینے کا انتباہ دیا تھا بشمول مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر اعلانات اور کمیونٹی کے عمائدین سے ملاقاتوں کے ذریعے۔
لیکن بعض کہتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ ممکنات ہیں۔
"پولیس کسی کے حالات پر غور نہیں کرتی۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میری جیب میں پیسے ہیں یا نہیں۔ وہ میری صحت کو بھی مدِنظر نہیں رکھتے،" 70 سالہ احمد مولا نے کہا جن کا متنی میں گھر گرا دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، پولیس نے کم از کم بیس بار اعلانات کیے ہیں لیکن ہماری اپنی مشکلات اور حالات ہیں۔
کریک ڈاؤن سے برسوں سے جاری وطن واپسی پالیسی کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے جس کے تحت اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2.3 ملین افغانوں کو واپس دھکیل دیا گیا ہے – ان میں سے بعض کئی عشروں سے پاکستان میں مقیم تھے اور دوسرے 2021 میں طالبان حکام کی اقتدار میں واپسی کے بعد اپنے آبائی ملک سے فرار ہو کر آئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 11 جولائی تک کے سات دنوں میں تقریباً 6,200 افغان پاکستان سے واپس گئے جو گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی زیادہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق پاکستان اب بھی دس لاکھ سے زائد افغانوں کا مسکن ہے۔
گھروں میں چھپنے پر مجبور
اس ہفتے پشاور میں اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے پولیس کو پورے شہر میں عارضی چوکیاں قائم کرتے ہوئے دیکھا جہاں افسران راہگیروں کی شناختی دستاویزات چیک کر رہے تھے۔
ایک چوکی پر موجود افسر نے اے ایف پی کو بتایا، "ہمیں غیر دستاویزی افغان شہریوں کی گرفتاری کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔"
پشاور کے بورڈ بازار میں جو "چھوٹا کابل" کے نام سے معروف ہے اور جہاں ہزاروں دکانیں افغانی چلاتے ہیں، مالکان کا کہنا ہے کہ انہوں نے گاہکوں کی تعداد میں کمی دیکھی اور انہیں گرفتاریوں کا خدشہ تھا۔
بازار کے ایک تاجر ذبیح اللہ نے کہا، "لوگ گھروں میں چھپ گئے ہیں اور کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔"
چار عشروں کی جنگ کے باعث لاکھوں افغانی ہمسایہ ملک پاکستان آ گئے۔ 2021 کے بعد سے اب تک لاکھوں مزید آئے اور کئی ان ممالک میں دوبارہ آباد ہونے کی امید پر انتظار کر رہے ہیں جن کی افواج کی انہوں نے کبھی افغانستان میں معاونت کی تھی۔
پاکستان جسے بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے، نے 2023 میں اعلان کیا تھا کہ وہ غیر دستاویزی غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دے گا اور اس سال دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے اس نے افغانستان پر فضائی حملے کیے ہیں۔