نوری المالکی انتظامیہ ماضی میں 'العربیہ' پر پابندی کی دھمکی دے چکی ہے
عراق میں العربیہ ویب سائٹ پر پابندی عائد
دبئی سے نشریات پیش کرنے والے پین عرب نیوز چینل العربیہ کی انتظامیہ نے عراق میں وزارت عظمی کے عہدے کی معیاد ختم ہونے کے باوجود اس پر براجمان نوری المالکی انتظامیہ کی جانب سے چینل کی چار زبانوں میں ویب سائٹ پر پابندی لگانے کی شدید مذمت کی ہے۔
'العربیہ' نے اپنی نیوز ویب سائٹ پر عراق میں بندش کو میڈیا کی آزادی پر پابندی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عراقیوں کو حکومت کی سنگین غلطیوں اور یکے بعد دیگرے ملنے والی ناکامیوں کے جلو میں معلومات تک رسائی روکنے کی بودی کوشش قرار دیا ہے۔
'العربیہ' نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بطور نیوز چینل ہم ماڈریٹ میڈیا کی روشن مثال ہیں۔ ہم غیر جانبدار طریقے سے پیشہ وارانہ اصولوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔ ہم بغیر کسی فرقہ واریت کے تمام عراقیوں کو کوریج دیتے ہیں۔
'العربیہ' پر پابندی سے پہلے نوری المالکی حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ٹویٹر اور فیس بک پر پابندی عائد کی۔ عراق کے سرکاری ذرائع نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' پر پابندی کی وجوہات بیان نہیں کیں اور نہ ہی سوشل میڈیا کی بندش سے متعلق کوئی سرکاری بیان جاری کیا ہے۔
اسی بارے میں
-
نجف میں سعودی، ترک اور قطری مصنوعات پر پابندی عاید -
عراق کی شکایت پر تین مصری چینلز آف ائر -
عراق میں مالکی حکومت کا سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان -
نوری المالکی نے 'العربیہ نیوز' بند کرنے کی دھمکی دیدی -
''العربیہ'' ٹیم کی حراست اور رہائی، ویڈیو ٹیپ ضبط -
شاہِ اردن کا العربیہ کے سعد السیلاوی کے لیے اعلیٰ ایوارڈ